صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب ششم: در بیان محو شدۀ توحید و فانی در تفرید
  4. »شمارهٔ 22

شمارهٔ 22

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: تدیدیم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

زان روز که آفتاب حضرت دیدیم

ذرات دو کون را به قربت دیدیم

2

وان سیمرغی که عرش در سایهٔ اوست

ما در پس کوه قاف قدرت دیدیم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ما روی ز هر دو کون برتافته‌ایم

بس سینهٔ دل به فکر بشکافته‌ایم

عطار»مختارنامه»باب ششم: در بیان محو شدۀ توحید و فانی در تفرید»شمارهٔ 21

اگلی نظم

از فوق، ورای آسمان بودم من

وز تحت، زمین بیکران بودم من

عطار»مختارنامه»باب ششم: در بیان محو شدۀ توحید و فانی در تفرید»شمارهٔ 23

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور