صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق
  4. »شمارهٔ 19

شمارهٔ 19

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: قاست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

از خجلت خط، رخت اگر پر عرق است

بر جملهٔ خوبان جهانت سبق است

2

گر از ورق گلت خطی پیدا شد

خط را ورقی باید و خط بر ورق است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش آمد و گفت: «آمده‌ام حور سرشت

تاختم کنم ملکت حوران بهشت»

عطار»مختارنامه»باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق»شمارهٔ 18

اگلی نظم

از عشقِ خط تو سرنگون میگردم

وز خال تو در میان خون میگردم

عطار»مختارنامه»باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق»شمارهٔ 20

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور