صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب چهل و یكم: در صفت بیچارگی عاشق
  4. »شمارهٔ 33

شمارهٔ 33

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ابافتادهاست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تن را که در آتش عذاب افتاده است

بر رشتهٔ جان هزار تاب افتاده است

2

دل را که به سالها عمارت کردم

اکنون ز می عشق، خراب افتاده است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در عشق تو من با دل پرخون چکنم

چون افتادم ز پرده بیرون چکنم

عطار»مختارنامه»باب چهل و یكم: در صفت بیچارگی عاشق»شمارهٔ 32

اگلی نظم

خوش خوش بربود نیکوئی تو مرا

در کار کشید بدخوئی تو مرا

عطار»مختارنامه»باب چهل و یكم: در صفت بیچارگی عاشق»شمارهٔ 34

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور