صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد
  4. »شمارهٔ 88

شمارهٔ 88

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یزكهبود

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

در عشق نماند عقل و تمییز که بود

کلی دل و جان بسوخت آن نیز که بود

2

چون پرتو آفتاب از پرده بتافت

ناپیدا شد چو ذرّه هر چیز که بود

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشق آمد و نام کفر و ایمان نگذاشت

هر پنداری که بود پنهان نگذاشت

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 87

اگلی نظم

آن دل که ز شوق نور اکبر میتافت

وز حق طلبی چو شمع انور میتافت

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 89

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور