صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق
  4. »شمارهٔ 13

شمارهٔ 13

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: هخواهدشد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11

چون خط تو باعث گنه خواهد شد

هر روز هزار دل ز ره خواهد شد

22

زین شیوه که خط تو محقق افتاد

دیوان من از خطت سیه خواهد شد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تا خط تو پشت بر قمر آوردست

عقل از دل من روی به درآوردست

عطار»مختارنامه»باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق»شمارهٔ 12

اگلی نظم

اندیشهٔ ابروی تو پیوسته مراست

وز حلقهٔ زلفت دل بشکسته مراست

عطار»مختارنامه»باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق»شمارهٔ 14

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور