صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 184

غزل شمارهٔ 184

شاعر: عطار

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: ردارد

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

فرو رفتم به دریایی که نه پای و نه سر دارد

ولی هر قطره‌ای از وی به صد دریا اثر دارد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 183

اگلی نظم

لب تو مردمی دیده دارد

ولی زلف تو سر گردیده دارد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 185

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00