صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 217

غزل شمارهٔ 217

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: ریبراورد

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
دل دست به کافری بر آورد
وآیین قلندری بر آورد
22
قرائی و تایبی نمی‌خواست
رندی و مقامری بر آورد
33
دین و ره ایزدی رها کرد
کیش بت آزری بر آورد
44
در کنج نفاق سر فرو برد
سالوس و سیه گری بر آورد
55
از توبه و زهد توبه‌ها کرد
مؤمن شد و کافری بر آورد
66
تا دردی درد بی‌دلان خورد
صافی شد و دلبری بر آورد
77
عطار چو بحث حال خود کرد
تلبیس و مزوری بر آورد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چو جان و دل ز می عشق دوش جوش بر آورد

دلم ز دست در افتاد و جان خروش بر آورد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 216

اگلی نظم

خطی سبز از زنخدان می بر آورد

مرا از دل نه کز جان می بر آورد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 218

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00