صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »پیشکش به حضور اعلیحضرت امیرامان الله خان فرمانروای دولت مستقلهٔ افغانستان خلد الله ملکه و اجلاله

پیشکش به حضور اعلیحضرت امیرامان الله خان فرمانروای دولت مستقلهٔ افغانستان خلد الله ملکه و اجلاله

پیش کش بہ حضور اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان فرمانروای دولت مستقلہ افغانستان خلد اللہ ملکہ و اجلالہ

Dedicatory Epistle to King Amanullah Khan of Afghanistan

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
11

ای امیر کامگار ای شهریار

نوجوان و مثل پیران پخته کار

اے بلند اقبال (خوش نصیب) سردار ، اے بادشاہ (تو) نوجوان مگر بوڑھوں کی طرح جہاں دیدہ ہے ۔

Successful head of a great monarchy, youthful in years, old in sagacity.

22

چشم تو از پردگیها محرم است

دل میان سینه‌ات جام جم است

تیری آنکھ چھپے ہوئے رازوں سے آشنا ہے (رازداں ہے) تیرے سینے میں دل جمشید کے پیالہ کی مانند ہے ۔

Inspired practitioner of the royal art, possessor of the wisdom of the heart.

33

عزم تو پاینده چون کهسار تو

حزم تو آسان کند دشوار تو

تیرا پکا ارادہ تیرے پہاڑ کی طرح اٹل ہے ۔ تیری سوجھ بوجھ تیری مشکل آسان کرتی ہے ۔

With a will as strong as your mountain walls, and constant circumspection that forestalls.

44

همت تو چون خیال من بلند

ملت صد پاره را شیرازه بند

تیری ہمت میرے تخیل (فکر) کی طرح بلند ہے ۔ یہ ہمت تتر بتر ملت کو اکٹھا (متحد) کرنے والی ہے ۔ تو نے اپنی ہمت کو کام میں لے کر قبائل ، عقائد و نظریات اور زبان و نسب میں بٹی ہوئی افغان قوم کو جو صد ہا ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی متحد کر دیا ۔

All risks, ambition as high as my thought, and organizing power that has brought.

55

هدیه از شاهنشهان داری بسی

لعل و یاقوت گران داری بسی

بڑے بڑے بادشاہوں نے تجھے نذریں گزاری ہیں تو بہت سے قیمتی اور انمول ہیرے موتی رکھتا ہے ۔

Together feuding tribes, you have untold gifts made to you by kings – silver and gold, rubies and jewels.

66

ای امیر ابن امیر ابن امیر

هدیه ئی از بینوائی هم پذیر

اے جدی پشتی سلطان (اے رئیس سرداروں کی اولاد) ایک (اس) فقیر بے سروسامان کی ناچیز نذر کو بھی قبول کر لے ۔

O king, son of a king, accept from me this humble offering.

77

تا مرا رمز حیات آموختند

آتشی در پیکرم افروختند

چونکہ مجھے زندگی کا بھید سکھایا گیا ہے اور میرے پیکر میں ایک آگ بھڑکائی گئی ہے ۔

Ever since I found out life’s mystery, it is as if a fire blazed inside me.

88

یک نوای سینه تاب آورده ام

عشق را عهد شباب آورده ام

( میں ) سینہ روشن کرنے والا ایک نغمہ لایا ہوں ۔ ( میں ) عشق کا عہد شباب واپس لایا ہوں ۔

My song is a flame of that inner fire – a song of passion sung on wisdom’s lyre.

99

پیر مغرب شاعر المانوی

آن قتیل شیوه های پهلوی

(وہ) اہل مغرب کا گرو (استاد) المانوی شاعر (جرمن شاعر گوءٹے) وہ پہلوی اداؤں کا مارا ہو ا(فارسی شاعری کا فدائی) ہے ۔

That Western sage, that bard of Germany, that ardent lover of things Pahlavi.

1010

بست نقش شاهدان شوخ و شنگ

داد مشرق را سلامی از فرنگ

اس نے اپنے کلام میں شوخ و شنگ حسینوں کا تصور باندھا اور مغرب سے مشرق کو سلام بھیجا ہے ۔ نوٹ: حکیم مغرب جرمن شاعر گوءٹے نے جو فارسی ادبیات کا دلدادہ تھا ، مغرابی دیوان کی وساطت سے اہل مشرق کو سلام محبت بھیجا تھا میں نے اس کے جواب میں پیام مشرق لکھا ہے ۔

Saluted the East with his great Divan, that tribute to the poets of Iran and veritable picture gallery of vignettes, all in Persian imagery.

1111

در جوابش گفته ام پیغام شرق

ماهتابی ریختم بر شام شرق

میں نے اس کے جواب میں مشرق کا پیغام (پیام مشرق) کہا ہے ۔ (گویا) یورپ کے جھٹپٹے پر چاندی بکھیر دی ہے ۔

To that salute this book is a reply, this gleam of moonlight in the Eastern sky.

1212

تا شناسای خودم خود بین نیم

با تو گویم او که بود و من کیم

یہ تو ہے کہ میں خود شناس ہوں مگر خود پرست (مغرور) نہیں ہوں ۔ ( میں ) تجھے بتاتا ہوں کہ وہ (گوءٹے) کون تھا اور میں کون ہوں ۔

Without deluding myself, I will dare to tell you how the two of us compare.

1313

او ز افرنگی جوانان مثل برق

شعلهٔ من از دم پیران شرق

وہ بجلی ایسے فرنگی جوانوں میں سے تھا ۔ میرا شعلہ مشرق کے بوڑھوں نے دھونکا (پیران شرق کے فیض سے) ۔

His was the vital spark of the young West; mine has been wrung from the East’s aged breast.

1414

او چمن زادی چمن پرورده ئی

من دمیدم از زمین مرده ئی

وہ چمن کا بیٹا، چمن (بہار) کا پالا ہوا ۔ اور میں ایک مردہ زمین سے اگا ہوا (ایسے ملک میں پیدا ہوا جو غریب، غیر ترقی یافتہ اور غلام ہے) ۔

A flourishing spring garden gave him birth; I am a product of a long dead earth.

1515

او چو بلبل در چمن فردوس گوش

من بصحرا چون جرس گرم خروش

وہ چمن میں بلبل کی طرح کانوں کی جنت ہے (وہ چمن کے اس بلبل کی مانند ہے جس کے نغمے کانوں کے لیے جنت ہیں یعنی اس کے ملک کے لوگ اس کا کلام بڑے شوق سے پڑھتے ہیں ) ۔ میں صحرا میں جرس کے مانند شور مچاتا ہوا فریادی ۔ میں قافلے کے اس گھڑیال یا گھنٹی کی طرح ہوں جو صحرا میں شور کر رہی ہو(اور سننے والا کوئی نہ ہو) ۔

He was a nightingale that filled with song an orchard; I am but a desert gong, a signal for the caravan to start.

1616

هر دو دانای ضمیر کائنات

هر دو پیغام حیات اندر ممات

ہم دونوں ہی کائنات کا بھید جاننے والے ہیں ۔ (ہم) دونوں موت کے اندر زندگی کا پیغام (ہیں ) ۔ تبصرہ: اس کی قوم نے اس کے کلام کی قدر کی لیکن میری قوم میرے کلام سے غافل ہے ۔ ہم دونوں کائنات کی حقیقت سے آگاہ ہیں دونوں نے دنیا کو زندگی کا پیغام دیا ہے ۔

We both have delved into the inmost heart of being; both of us are messages of life in the midst of death’s ravages;

1717

هر دو خنجر صبح خند آئینه فام

او برهنه من هنوز اندر نیام

(ہم) دونوں صبح کی طرح روشن اور آئینہ کی طرح چمکدار خنجر ہیں ، یعنی اس کے پیغام کا چرچا اور اثر ہو چکا ہے ۔ وہ کھلا ہوا اور میں ابھی تک نیام میں ہوں یعنی میرا پیغام ابھی تک کانوں میں پہنچ کر اثر انگیز نہیں ہوا ۔

Two daggers, morning-lustred, mirror-bright; he naked; I still sheathed, concealed from sight.

1818

هر دو گوهر ارجمند و تاب دار

زادهٔ دریای ناپیدا کنار

(ہم) دو قیمتی چمکدار موتی ہیں (جو) بیکراں سمندر کے پیدا کئے ہوئے ہیں یعنی ہم دونوں وہ موتی ہیں جو اس دریا میں پیدا ہوئے ہوں جس کا کوئی کنارہ نہیں ۔ ایسے دریا میں پیدا ہونے والے موتی زیادہ آب و تاب والے ہوتے ہیں ۔ تبصرہ: ہم دونوں باطل کے خلاف جنگ آزما ہیں ۔ دونوں کا کلام منور اور تابناک ہے ۔ فرق یہ ہے کہ اس کی قوم نے اس کو پہچان لیا ہے لیکن میری قوم میرے کلام سے نا آشنا ہے ۔ یہاں علامہ اقبال نے قوم کی تغافل شعاری اور کوتاہ نظری کا شکوہ کیا ہے ۔

Two pearls, both precious, both unmatched, are we, both from the depths of an unfathomed sea.

1919

او ز شوخی در ته قلزم تپید

تا گریبان صدف را بر درید

وہ شوخی سے سمندر کی تہ میں تڑپا ۔ یہاں تک کہ گریبان چاک کر دیا ، پھاڑ دیا ۔ موتی نے سیپ کے اندر رہنا پسند نہ کیا اور نکلنے کے لیے بیتاب ہوا ۔

He burst out of the mother-of-pearl’s womb, for he could rest no longer in that tomb.

2020

من به آغوش صدف تابم هنوز

در ضمیر بحر نایابم هنوز

میں ابھی تک صدف کے آغوش میں الجھا ہوا چمک رہا ہوں ۔ (صدف کے اندر پیچ و تاب کھا رہا ہوں ) ۔ ( میں ) اب تک سمندر کے باطن میں نایاب ہوں ۔ تبصرہ: اس نے سیپ کے گریبان کو پھاڑ دیا ہے وہ اپنی قوم کو عمل کا پیغام دینے کے لیے بیتاب رہا ۔ میری قوم نے ابھی تک میری شاعری اور میرے پیغام کو نہیں پہچانا ۔ گوءٹے دنیا میں مشہور ہو گیا اور میں اپنے دیس میں اجنبی ہوں ۔

But I, who still am lying shell-enshrined, have yet to be astir in the sea’s mind.

2121

آشنای من ز من بیگانه رفت

از خمستانم تهی پیمانه رفت

میرا آشنا بھی مجھے جانے بغیر چلا گیا (انجان بن کر گزر گیا) وہ میرے شراب خانے سے خالی پیالہ لے کرنکل آیا یعنی میرے اپنے بھی میری شاعری کی اصلیت سے ناواقف اور فائدہ اٹھائے بغیر رخصت ہو گئے ۔ حالانکہ میرے شراب خانے کے مٹکے شراب سے بھرے ہوئے تھے ۔ مراد میری شاعری اور پیغام سے کسی نے فائدہ نہ اٹھایا ۔

No one around me knows me properly: They go away with empty cups from my wine-fount.

2222

من شکوه خسروی او را دهم

تخت کسری زیر پای او نهم

میں اسے خسرو کا جاہ و جلال پیش کرتا ہوں ۔ اس کے قدموں کے نیچے کسریٰ کا تخت رکھتا ہوں ۔

I offer them a royal state, with Chosroe’s throne for use as their foot-mat.

2323

او حدیث دلبری خواهد ز من

رنگ و آب شاعری خواهد ز من

وہ مجھ سے دل لبھانے والی بات چاہتا ہے ۔ وہ مجھ سے شاعرانہ رنگینی اور چمک مانگتا ہے یعنی وہ مجھ سے عمل آموز شاعری کے بجائے ایسی شاعری کی مانگ کر رہا ہے جو محض تفریح طبع کے لیے ہو ۔ میں شاعری میں حسینوں اور محبوبوں کی دلبری کی بات بیان کروں ۔

But they want fairy tales of love from me, the gaudy trappings of mere poesy.

2424

کم نظر بیتابی جانم ندید

آشکارم دید و پنهانم ندید

کم نظر نے میری جان کی بیتابی کو نہ دیکھا، اس نے صرف میرا ظاہر دیکھا میرے اندرون کو نہ دیکھا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

They are so purblind that they only see my outside, not the fervid soul in me.

2525

فطرت من عشق را در بر گرفت

صحبت خاشاک و آتش در گرفت

میری فطرت نے عشق کو آغوش میں لے لیا (اپنے اندر سمو لیا) آگ اور خاشاک کا یہ میل ٹھیک بیٹھا( میں نے تنکے اور آگ کو اپنے اندر اکٹھا کر لیا) ۔

I have made Love my very being’s law: in me can live together fire and straw.

2626

حق رموز ملک و دین بر من گشود

نقش غیر از پردهٔ چشمم ربود

اللہ تعالیٰ نے مجھ پر سلطنت اور دین کے بھید کھولے ہیں ۔ میری آنکھ کے پردے سے غیر کی صورت مٹا دی (غیر اللہ کا پردہ ہٹا دیا) ۔ یعنی اسرار جہاں بانی کے ساتھ ساتھ مجھے دین کی فہم بھی عطا کی گئی ہے ۔

The truths of statecraft and religion both God has revealed to me; so I am loth to turn to any other guide.

2727

برگ گل رنگین ز مضمون من است

مصرع من قطرهٔ خون من است

گلاب کی پنکھڑی میرے مضمون سے رنگین ہے ۔ میرے ہر شعر کا مصرع میرے خون کا قطرہ ہے ۔

From my imagination do the flowers come by their hues. Each line of verse that I compose is a drop of my rich heart’s blood that flows from my pen’s point.

2828

تا نپنداری سخن دیوانگیست

در کمال این جنون فرزانگیست

تاکہ تو یہ گمان نہ کرے کہ شاعری دیوانگی ہے ۔ یہ دیوانگی اپنی انتہا میں عقلمندی ہے ( میں نے یہ ثابت کیا ہے کہ) اس کے جنون کا کمال دانائی ہے ۔

Do not think poetry is merely madness; if this madness be complete, then wisdom is its name.

2929

از هنر سرمایه دارم کرده اند

در دیار هند خوارم کرده اند

مشیت نے مجھے ہنر (سخن) کی دولت سے مالامال کر رکھا ہے مگر سرزمین ہندوستان میں مجھے خوار کیا گیا ہے ۔ یعنی میرے ہنر کی قدر کرنے والا کوئی نہیں میری شاعری سے استفادہ کرنے والا کوئی نہیں ۔

Alas! Vouchsafed this gift, I am condemned to pass my days in exile in this joyless land, this India;

3030

لاله و گل از نوایم بی نصیب

طایرم در گلستان خود غریب

یہاں کے لالہ و گل (عاشق و محبوب) میرے نغمے سے بے بہرہ ہیں ۔ میں اپنے ہی چمن میں اجنبی پرندہ ہوں ۔

Where none can understand the things I sing of like a nightingale with not a tulip, not a rose to hail its song – a nightingale singing alone in some deserted place, sad and forlorn.

3131

بس که گردون سفله و دون پرور است

وای بر مردی که صاحب جوهر است

غرضکہ آسمان انہی کمینوں اور رذیلوں کی پرورش کرتا ہے ۔ ا س شخص کی قسمت پر افسوس ہے جسے کوئی جوہر عطا کیا گیا ہو (کیونکہ اس کی قدر نہیں ہو گی بے جوہر کی ہو گی) ۔

So mean is fortune that it favours fools. woe to the gifted, who defy its rules!

3232

دیده ئی ای خسرو کیوان جناب

آفتاب «ما توارت بالحجاب»

اے بلند مرتبت بادشاہ تو نے دیکھا ہے کہ ہمارا سورج غروب ہو گیا ۔ پردے میں چھپ گیا ہے ۔ ملت اسلامیہ زوال کا شکار ہے ۔

You see, O king, the Muslims’ sun dimmed by the darkling clouds that overhang the sky:

3333

ابطحی در دشت خویش از راه رفت

از دم او سوز الا الله رفت

وادی بطحا کے باشندے یعنی عرب اپنے ہی صحرا میں راہ سے بے راہ ہو گیا ۔ راہ گم کئے ہوئے ہے ۔ اسلام کے اصولوں سے بیگانہ ہو چکے ہیں ۔ اسکی روح سے الا اللہ کا سوز رخصت ہو گیا ۔ اس شعر میں تلمیح ہے عربوں کی اسلام کش روش کی طرف کی 1916-17 میں انھوں نے ترکوں کے خلاف ان ترکوں کے خلاف جنھوں نے چار سو سال تک اپنے خون سے سرزمین حجاز کی آبیاری کی تھی اور لفظ حرمین شریفین کو اپنے لیے سب سے بڑا اعزاز تصور کیا تھا اعلان جنگ کر کے دشمنان اسلام یعنی انگریزوں سے مل کر اپنے محسنوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا ۔

The Arab in his desert gone astray; the way of godliness no more his way.

3434

مصریان افتاده در گرداب نیل

سست رگ تورانیان ژنده پیل

اہل مصر نیل کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ مست ہاتھیوں ایسے تورانی کاہل اور بے حس ہو چکے ہیں کمزور پڑ چکے ہیں ۔ مصری، انگریزوں کی غلامی میں ہیں ، ترکمانستان کے باشندے اوسیوں کے زیر اقتدار ہیں ۔

The Egyptian in the whirlpool of the Nile; and the Turanian slow-pulsed and senile.

3535

آل عثمان در شکنج روزگار

مشرق و مغرب ز خونش لاله زار

عثمانی ترک (زمانے) کے شکنجے میں (ہیں ) ایشیا اور یورپ ان کے خون سے سرخ ہو چکا ہے ۔ ترکوں کے تحت یورپ، ایشیا اور افریقہ کا بہت سا علاقہ تھا وہ کمزور ہو گئے اب ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں ۔

The Turk a victim of the ancient feud of East and West, both covered with his blood;

3636

عشق را آئین سلمانی نماند

خاک ایران ماند و ایرانی نماند

عشق کا سلمانی طریق (انداز) نہ رہا ۔ ایران کی بس سرزمین رہ گئی اور ایرانی نہ رہے ۔

No one left like that ardent soul, Salman; his creed of Love now alien to Iran:

3737

سوز و ساز زندگی رفت از گلش

آن کهن آتش فسرد اندر دلش

اس کی مٹی (بدن) سے زندگی کی حرارت اور مستی کوچ کر گئی ۔ اس کے دل میں وہ قدیم آگ بجھ گئی ۔

Which has lost all its fervour, all its zest, the old fire all cold ashes in its breast.

3838

مسلم هندی شکم را بنده ئی

خود فروشی دل ز دین بر کنده ئی

ہندی مسلمان صرف پیٹ کا غلام ہے (وہ پیٹ بھرنے یا حصول دولت کے لیے ہر قدم اٹھانے کو تیار ہے) ۔ وہ خود فروش ہے جس کا دل دین سے اکھڑ گیا ہے ۔ اس میں حمیت و غیرت مر چکی ہے ۔

The Indian Muslim unconcerned about all save his belly, sunk in listless doubt.

3939

در مسلمان شأن محبوبی نماند

خالد و فاروق و ایوبی نماند

مسلمانوں میں شان محبوبی نہ رہی ۔ خالد، فاروق اور اصلاح الدین ایوبی کے اوصاف نہ رہے ۔

The heroes have departed from the scene: All, all gone – Khalid, Umar, Saladin.

4040

ای ترا فطرت ضمیر پاک داد

از غم دین سینهٔ صد چاک داد

یہاں امیر امان اللہ کو خطاب کرتے ہوئے علامہ اقبال کہتے ہیں ۔ اے کہ قدرت نے تجھے پاک دل بخشا دین کے غم سے چاک چاک سینہ عطا کیا ۔

God has endowed you with a feeling heart that bleeds to see the Muslims thus distraught.

4141

تازه کن آئین صدیق و عمر

چون صبا بر لالهٔ صحرا گذر

تو صدیق اکبراور عمر فاروق کا انداز تازہ کر ۔ صبا کی طرح لالہ صحرا پر سے گزر جا ۔

Across this wilderness pass like a breeze of spring; blow back Siddiq’s and Umar’s days.

4242

ملت آوارهٔ کوه و دمن

در رگ او خون شیران موج زن

پہاڑوں اور وادیوں میں بکھری ہوئی افغان قوم ہے ۔ جس کے رگوں میں شیروں کا خون ٹھاٹھیں مارتا ہے ۔ وہ بہادر اور نڈر ہیں ۔ آپ کی قوم (افغان) عرصہ دراز سے منتشر اور غیر منظم ہے ۔ علم و فن سے عاری ہے آپ اس غیور قوم کی تعلیم اور تہذیب میں کوشش کریں ۔

This race of mountain-dwellers, the Afghans, the blood of lions flowing in their veins;

4343

زیرک و روئین تن و روشن جبین

چشم او چون جره بازان تیز بین

یہ لوگ ہوشیار اور فولاد بدن اور روشن جبین ہیں ۔ ان کی آنکھ سفید شہبازوں کی طرح تیز ہے ۔

Industrious, brave, intelligent and wise, with the look of the eagle in their eyes:

4444

قسمت خود از جهان نایافته

کوکب تقدیر او ناتافته

مگر انھوں نے اس دنیا سے اپنا پور ا حصہ نہیں پایا ۔ ان کی قسمت کا ستارہ ابھی نہیں چمکا ۔ مراد ہے وہ غیر ترقی یافتہ اور غریب ہیں اس کی قسمت کا ستارہ روشن نہیں ہوا ۔

Have not, alas, fulfilled their destiny: Their star has not yet risen in the sky.

4545

در قهستان خلوتی ورزیده ئی

رستخیز زندگی نادیده ئی

وہ پہاڑوں میں الگ تھلگ رہ رہے ہیں ۔ وہ زندگی کے ہنگاموں سے انجان ہیں ۔ زندگی کی کشمکش نہیں دیکھی ۔

They dwell hemmed in by mountain fastnesses, shut off from all renascent influences.

4646

جان تو بر محنت پیهم صبور

کوش در تهذیب افغان غیور

تیری جان لگاتار محنت کی سہار رکھتی ہے (سعی پیہم پر استقلال موجود) ان غیرت مند افغانیوں کی تراش خراش کے لیے کوشش کر ۔

O you, for whom no labour is too great, spare no endeavour to ameliorate your people;

4747

تا ز صدیقان این امت شوی

بهر دین سرمایهٔ قوت شوی

تاکہ تو اس امت کے صدیقوں میں شامل ہو جائے اور دین کے لیے سرمایہ قوت بن جائے ۔

So that you may add your name to those of men who worked for Islam’s fame.

4848

زندگی جهد است و استحقاق نیست

جز به علم انفس و آفاق نیست

زندگی جدوجہد کا نام ہے ۔ اس پر کسی کو کوئی استحقاق نہیں ۔ یہ تو بس انسان اور کائنات کا علم ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔

Life is a struggle, not beseeching rights; and knowledge is the arms with which one fights.

4949

گفت حکمت را خدا خیر کثیر

هر کجا این خیر را بینی بگیر

حکمت کو خدا نے خیر کثیر (بہت بڑی بھلائی) فرمایا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ دولت جہاں بھی نظر آئے حاصل کر لے، جہاں سے حکمت ملے اسے لے لو ۔

God ranked it with the good things that abound and said it must be grasped, wherever found.

5050

سید کل صاحب ام الکتاب

پردگیها بر ضمیرش بی حجاب

آپ کل کے (موجودات) کے سردار، اور صاحب ام الکتاب ہیں ۔ جن کے قلب (دل) پر چھپی ہوئی چیزیں آشکار ہیں ، پوشیدہ باتیں ظاہر ہیں ۔

The one to whom the Quran was revealed, from whom no aspect of truth was concealed:

5151

گرچه عین ذات را بی پرده دید

«رب زدنی» از زبان او چکید

اگرچہ انھوں نے خاص ذات باری تعالیٰ کو بالکل بے پردہ دیکھا (پھر بھی) ان کی زبان مبارک سے رب زدنی علماً ہی نکلا (اے میرے رب میرے علم کو زیادہ کر) ۔

Beheld the Essence itself with his eye; and yet ‘God, teach me still more’ was his cry.

5252

علم اشیا «علم الاسماستی»

هم عصا و هم ید بیضاستی

اشیاء کا علم ہی علم الاسماء ہے (علم الاسماء کی تفسیر ہے) یہ عصا بھی ہے اور ید بیضا بھی ۔ مراد ہے اشیا ء کے خواص کا علم جو حیران کن ایجادات کے معجزے دکھا سکتا ہے ۔

Knowledge of things is Adam’s gift from God, the shining palm of Moses and his rod.

5353

علم اشیا داد مغرب را فروغ

حکمت او ماست می بندد ز دوغ

علم اشیاء ہی نے مغرب (یورپ) کو فروغ بخشا (یورپ نے ترقی حاصل کی) اس کی حکمت چھا چھ سے پنیر جماتی ہے ۔ مراد مشکل باتیں بروئے کار لاتی ہے ۔

The secret of the greatness of the West, the source of all that it has of the best.

5454

جان ما را لذت احساس نیست

خاک ره جز ریزهٔ الماس نیست

ہماری جان میں احساس کی لذت نہیں ہے ۔ (احساس کی لذت کا پتہ نہیں ) ۔ ہم یہ نہیں سمجھتے راستوں میں بچھی ہوئی خاک، خاک نہیں ہے بلکہ قیمتی ہیروں کے ریزے ہیں ۔ مراد تجسس اور تحقیق سے مٹی سے سونا نکالا جا سکتا ہے ۔

We would see, if our spirits had true zest, nothing but diamonds in the roadside dust.

5555

علم و دولت نظم کار ملت است

علم و دولت اعتبار ملت است

ملت کے معاملات علم اور دولت ہی کے سبب ہیں ۔ علم اور دولت ہی سے ملت کا وقار ہے ۔ مراد ہے قوم کی سربلندی اور راز تحقیق کے علوم اور اقتصادی خوشحالی پر ہے ۔

Knowledge and wealth make nations sound and strong, and thus enable them to get along.

5656

آن یکی از سینهٔ احرار گیر

وان دگر از سینهٔ کهسار گیر

ایک (علم) کو آزاد قوموں کے سینے سے حاصل کر اور دوسری (یعنی دولت کو) پہاڑوں کی چھاتی سے، یعنی علوم سیکھو اور زمین کو چیر کر دولت حاصل کرو ۔

For knowledge cultivate your people’s minds; for wealth exploit your mineral finds.

5757

دشنه زن در پیکر این کائنات

در شکم دارد گهر چون سومنات

اس کائنات کے پیکر (جسم) میں خنجر گھونپ (اتار) ۔ سومنات کی طرح یہ بھی اپنے پیٹ میں بہت سے گوہر رکھتی ہے مراد ہے تو علم اشیا کی بدولت کائنات میں چھپے ہوئے خزانوں کو دریافت کر ۔

Go, plunge a dagger into your land’s bowels; like Somnat’s idol it is full of jewels.

5858

لعل ناب اندر بدخشان تو هست

برق سینا در قهستان تو هست

تیرے بدخشاں کے اندر قیمتی لعل ہیں ۔ تیرے پہاڑوں میں سینا کی برق (بجلی) ہے ۔ مراد تیرے ملک میں ہرقسم کے وسائل موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھا نا تمہارا کام ہے ۔

In it do rubies of Badakhshan lie; in its hills is the thunder of Sinai.

5959

کشور محکم اساسی بایدت

دیدهٔ مردم شناسی بایدت

تجھے ایک مضبوط سلطنت کی بنیاد درکار ہے۔ (تو پھر) تجھے آدمی کو پرکھنے والی (مردم شناس) نظر چاہیے ۔

If you desire a firmly founded state, then make of men a proper estimate.

6060

ای بسا آدم که ابلیسی کند

ای بسا شیطان که ادریسی کند

بہت سے آدمی ہیں جو (اندر اندر) ابلیس کا کام کرتے ہیں ۔ اور بہت سے شیطان (ابلیس) ہیں جو ادریسی کے لباس میں نظر آتے ہیں ۔

Many an Adam acts like an Iblis; many an Iblis acts like an Idris:

6161

رنگ او نیرنگ و بود او نمود

اندرون او چو داغ لاله دود

ایسے شخص کا رنگ ڈھنگ دھوکا اور ظاہر دکھاوا ہے اس کا ہونا نہ ہونا ہے ۔ اس کے اندر لالے کے داغ کی طرح دھواں دھواں ہے (گل لالہ کا داغ نہیں بلکہ کینے کا دھواں ہے) ۔

With false pretences that cheat simple folk, his tulip-heart a lamp that is all smoke.

6262

پاکباز و کعبتین او دغل

ریمن و غدر و نفاق اندر بغل

بظاہر وہ پاکباز ہے مگراس کے دونوں پانسے کھوٹے ہیں ۔ (مگر وہ فریب کا کھیل کھیلتا ہے ) وہ دل میں فریب اور دوغلا پن رکھنے والا مکار ہے ۔

Deceitful, with a show of piety, his heart full of hate and hypocrisy.

6363

در نگر ای خسرو صاحب نظر

نیست هر سنگی که می تابد گهر

اے صاحب نظر بادشاہ! اچھی طرح سمجھ لے کہ ہر چمکنے والا پتھر موتی نہیں ہے ۔

O king, be careful in assessing them, not every stone that glitters is a gem.

6464

مرشد رومی حکیم پاک زاد

سر مرگ و زندگی بر ما گشاد

مرشد رومی جو ربانی علم رکھنے والا پاک فطرت ہے ۔ اس نے ہم پر زندگی اور موت کا راز ظاہر کر دیا ہے ۔

The sage of Rum, of blessed memory, has thus summed up why nations live or die:

6565

«هر هلاک امت پیشین که بود

زانکه بر جندل گمان بردند عود»

پہلی قوموں پر جو بھی ہلاکت آئی اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے پتھر کو عود سمجھ لیا تھا ۔

‘The end of no past nation has been good which could not tell a stone from aloe-wood.’ Rumi

6666

سروری در دین ما خدمتگری است

عدل فاروقی و فقر حیدری است

ہمارے دین (اسلام ) میں سرداری خدمتگاری (کا نام ) ہے ۔ فاروقی عدل اور حیدری فقر (سے عبارت) ہے ۔

A king in Islam is God’s servitor – a selfless Ali or a just Umar.

6767

در هجوم کارهای ملک و دین

با دل خود یک نفس خلوت گزین

دین اور سلطنت کے کاموں کے ہجوم میں پل بھر کو اپنے دل کے ساتھ تنہائی اختیار (کیا) کر ۔ مراد ہے اپنا احتساب نفس کرنا اچھائیوں اور برائیوں کا جائزہ لینا ۔

Among your multifarious tasks of state give yourself time to think and contemplate.

6868

هر که یکدم در کمین خود نشست

هیچ نخچیر از کمند او نجست

جو (شخص) بھی ایک پل کے لیے اپنی گھات میں بیٹھا (اپنا محاسبہ کیا) اس کے پھندے سے کوئی شکار بچ کر نہیں جا سکتا ۔

The ambusher of self can never lose a quarry: quarries fall into his noose.

6969

در قبای خسروی درویش زی

دیده بیدار و خدا اندیش زی

بادشاہی لباس میں درویش بن کر زندگی بسر کر ۔ بیدار آنکھوں والا اور خدا خوفی کے ساتھ جی (راتوں کو جاگ اور ہر دم اللہ تعالیٰ کو دیکھ) ۔

In royal robes live like an anchorite: Eyes wide awake, but thought of God hugged tight.

7070

قاید ملت شهنشاه مراد

تیغ او را برق و تندر خانه زاد

ملت کا رہنما سلطان مراد تھا ۔ بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج جس کی تلوار کے غلام تھے ۔ مراد ہے اس کی ہیبت اور طاقت سے دشمن لرزتے تھے ۔

That soldier-king, the Emperor Murad, whose lightning-spouting sword kept his foes awed.

7171

هم فقیری هم شه گردون فری

ارد شیری با روان بوذری

وہ فقیر بھی تھا اور آسمان جیسی عظمت والا بادشاہ بھی ۔ (وہ) گویا ابوذر کی روح رکھنے والا اردشیر کی مانند تھا ۔

An Ardeshir with an Abu Dharr’s soul, played both a king’s role and a hermit’s role.

7272

غرق بودش در زره بالا و دوش

در میان سینه دل موئینه پوش

وہ سر سے پاؤں تک زرہ میں ڈوبا رہتا تھا لیکن اس کے سینے میں ایک دل تھا جو خرقہ پوش تھا ۔ (صوف میں ملبوس )یہ عام طور پر درویشوں کا لباس سمجھا جاتا ہے ۔

His breast wore armour for his soldier’s part, but in it dwelt a hairshirt-wearer’s heart.

7373

آن مسلمانان که میری کرده اند

در شهنشاهی فقیری کرده اند

وہ مسلمان جنھوں نے (اس طرح) حکمرانی کی ہے ۔ انھوں نے بادشاہی میں فقیری کی ہے ۔

All Muslim rulers who were truly great led hermits’ lives despite their royal state.

7474

در امارت فقر را افزوده اند

مثل سلمان در مدائن بوده اند

انھوں نے حکمرانی میں فقر کو پروان چڑھایا (فقر میں اضافہ کیا) مدائن میں سلمان فارسی کی طرح رہے۔

Asceticism was their way of life; to cultivate it was their constant strife. They lived as Salman lived in Ctesiphon.

7575

حکمرانی بود و سامانی نداشت

دست او جز تیغ و قرآنی نداشت

اگرچہ وہ حاکم تھے مگر ان کے پاس کوئی سامان نہ تھا ۔ ان کے ہاتھ میں تلوار اور قرآن کے سوا کچھ نہ تھا ۔

The ruler he who did not care to don the robes of royalty and who abhorred all outfit save the Qur’an and the sword.

7676

هر که عشق مصطفی سامان اوست

بحر و بر در گوشهٔ دامان اوست

جس کی پونجی (سامان) عشق رسول اللہ ﷺ ہے ۔ خشکی اور تری اس کے دامن کے کونے میں بندھے ہوئے ہیں ۔

Armed with love of Muhammad (S.A.W.), one commands complete dominion over seas and lands.

7777

سوز صدیق و علی از حق طلب

ذره ئی عشق نبی از حق طلب

اللہ تعالیٰ سے حضرت صدیق اور حضرت علی کا سوز مانگ ۔ عشق نبی ﷺ کا ایک ذرہ خدا سے مانگ (اسی عشق سے یہ سوز و ساز حاصل ہو گا) کیونکہ ملت اسلامیہ کی بقا ان کے عشق سے ہے ۔

Ask God to grant you some small part of that love for Muhammad which the heart of Siddiq and of Ali bore:

7878

زانکه ملت را حیات از عشق اوست

برگ و ساز کائنات از عشق اوست

کائنات کا سازو سامان ان ﷺ کی محبت ہی تو ہے یہی عشق کائنات کا سارا سازو سامان ہے ۔

Because, the life of the Islamic people draws its sustenance from it and it, in fact, is that which keeps the universe intact.

7979

جلوهٔ بی پرده او وانمود

جوهر پنهان که بود اندر وجود

وجود کا چھپا ہوا جوہر آپ ﷺ کے ظہور سے آشکار ہو گیا ۔ اشارہ نور محمدی ﷺ کی طرف ہے مراد ہے کائنات کی تخلیق کا باعث نبی کریم ﷺ ہیں ۔

It was Muhammad whose epiphany laid bare the essence of Reality.

8080

روح را جز عشق او آرام نیست

عشق او روزیست کو را شام نیست

آپ ﷺ کے عشق کے بغیر روح کو تسکین نہیں (چین نہیں ہے) آپ ﷺ کا عشق وہ دن ہے جسے شام نہیں ہے ۔

My soul has no peace but in love of him – a light in me that never can get dim.

8181

خیز و اندر گردش آور جام عشق

در قهستان تازه کن پیغام عشق

اٹھ اور ان کے عشق کے پیالے کو گردش میں لا ۔ کوہستان (افغانستان) میں عشق کا پیغام تازہ کر ۔

Arise and make the cup of Love go round, and in your hills make songs of Love resound.

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور