صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور ملت
  4. »بخش 5 - رومی

بخش 5 - رومی

رومی

Rumi

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ویز

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، کبیر
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
بند 1
Toggle stanza 1
1

اپنے حلق میں پھر وہی پرانی شراب انڈیل —

جس کا ایک جام سلطنتِ پرویز سے بڑھ کر ہے۔

Pour into your veins that same ancient wine again —

A single goblet of which outweighs the empire of Parvez.

2

جلال الدین رومی کے اشعار کو —

اپنے حریم دل کی دیوار پر آویزاں کر۔

These are the verses of Jalaluddin Rumi —

Hang them upon the walls of your heart's sanctuary.

بند 2
Toggle stanza 2
3

رومی کے ساغر سے وہ لالہ رنگ شراب لے —

جس کی تاثیر پتھر کو لعل میں بدل دیتی ہے۔

Take that crimson wine from Rumi's cup —

Whose alchemy turns stone to a radiant ruby.

4

جو ہرن کو شیردل بنا دیتی ہے —

اور چیتے کی پشت سے داغ دھو ڈالتی ہے ۔

That which turns the deer into a lion-heart —

And washes the stains from the leopard's back.

بند 3
Toggle stanza 3
5

میں نے رومی کی چمک اور تپش سے حصہ پایا —

اور اس کے ستارے نے میری رات کو دن کی طرح روشن کر دیا ۔

I bear a share of his fever and flame —

My night shines like day from his star's radiance.

6

بیابانِ حرم میں اس ہرن (یعنی اقبال) کو دیکھ —

اس کے لبوں پر شیر کی سی مسکراہٹ ہے۔

Behold the gazelle (Iqbal) in the sanctuary's wilderness —

From whose lips curls the smile of a lion.

بند 4
Toggle stanza 4
7

رومی کا کلام سراپا درد و سوز محبت ہے —

اس کا وصل ، ہجر کا ترجمان ہے ۔

Rumi's poetry is pure ache and fire of love —

His union speaks the language of separation.

8

اس کے نغموں کی بدولت ، عشق کا حسن و جمال —

جلال کبریائی کی شان رکھتا ہے ۔

Love itself acquires from his reed's sweet cry —

A portion of the Divine Majesty's splendor.

بند 5
Toggle stanza 5
9

اس نے مجھ ناکارہ کی مشکلات حل کر دیں —

مجھ جیسے غبارِ راہ کو کیمیا بنا دیا ۔

He resolved the trials of this worthless one —

Transformed road-dust like me into alchemy's gold.

10

اس پاکباز بانسری بجانے والے کے نغموں نے —

مجھے عشق ومستی کی دولت سے آشنا کر دیا ۔

Through the melodies of that pure-hearted saint —

I was blessed with the riches of love and ecstasy.

بند 6
Toggle stanza 6
11

مجھ پر دل کے دروازے کھول دیے گئے —

میری خاک سے ایک نیا جہان تعمیر کیا گیا ۔

Before me, the heart's doors were flung open —

From my dust they fashioned a new world.

12

میں نے رومی کے فیض سے وہ مرتبہ پایا —

کہ اب چاند ستارے میری موافقت میں چلتے ہیں۔

Through Rumi's grace, I attained such station —

That now the moon and stars move in harmony with my will.

بند 7
Toggle stanza 7
13

اس کے خیالات بلندی میں چاند تاروں کے ہم نشیں ہیں —

اس کی نگاہ ثریا کے اس جانب دیکھتی ہے۔

His thoughts dwell in lofty company with moon and stars —

His gaze pierces beyond the Pleiades.

14

اپنا بے تاب اور مضطرب دل رومی کے سامنے پیش کر —

کیونکہ اس کا دم پارے سے کپکپی اور بے قراری چھین لیتا ہے ۔

Lay your restless heart before Rumi —

That his breath can strip tremors from quicksilver.

بند 8
Toggle stanza 8
15

فقیری کے اسرار رومی سے سیکھ —

اس کے فقر پر امیری بھی رشک کرتی ہے ۔

Learn the secrets of Faqr from Rumi —

Where even kings envy the riches of his Faqr.

16

ایسے فقر و درویشی سے اپنا دامن بچا کر رکھ —

جو تجھے عاجزی و درماندگی کے مقام پر پہنچا دے۔

Beware of that Faqr and asceticism —

Which reduces you to helplessness and degradation.

بند 9
Toggle stanza 9
17

جب خودی نے خدائی صفات چھوڑ دیں —

تو اس نے فقر سے گدائی کے آداب سیکھ لئے ۔

When Khudi abandoned the divine attributes —

It learned from Faqr the manners of beggary.

18

میں رومی کی مست نگاہوں سے ادھار لے چکا —

مقام کبریائی کا سرور، مقام کبریائی کی سرشاری ۔

I have borrowed from Rumi’s intoxicated gaze —

A rapture and ecstasy from the Station of Divine Majesty.

بند 10
Toggle stanza 10
19

میرے انگور سے روشن شراب ٹپک رہی ہے —

خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے میرا دامن تھام لیا ۔

From my grapes, luminous wine drips —

Blessed is the man who clings to my hem.

20

میں نے بھی اس آتشِ عشق سے حصہ پایا ہے —

جو سنائی نے پہلے پہل رومی کے دل میں بھڑکائی تھی ۔

I too have caught an ember of that burning love —

Whose flame Sanai first lit in Rumi's heart.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گرفتم حضرت ملا ترش روست

نگاهش مغز را نشناسد از پوست

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 4 - صوفی و ملا

اگلی نظم

تو ای باد بیابان از عرب خیز

ز نیل مصریان موجی برانگیز

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 6 - پیام فاروق

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00