صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »خوش آن راهی که سامانی نگیرد

خوش آن راهی که سامانی نگیرد

شاعر: علامہ اقبال

صنف: رباعی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
1

خوش آن راهی که سامانی نگیرد

دل او پند یاران کم پذیرد

وہ مسافر خوش قسمت یا کامیاب ہے جو کوئی سامان نہیں رکھتا ۔ دنیاوی دلفریبیوں سے دل نہیں لگاتا ۔ اس کا دل دوستوں کی نصیحت کم مانتا ہے ۔

Happy the wayfarer who carries no provisions and listens less to friends’ advice.

2

به آهی سوزناکش سینه بکشای

ز یک آهش غم صدساله میرد

اس کی پرسوز آہ سے سینے کو کھول دے کہ اس کی ایک آہ سے سو سال کا غم مر جاتا ہے ۔ (علامہ اقبال اپنی طرف اشارہ کر رہے ہیں ) ۔

Open thy breast to his soul‐burning sigh, for his one sigh kills a hundred‐year‐old grief.