دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش
11
دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش
یہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموش
22
دیکھا جو حرم کو تو نہیں دیر کی وسعت
اس گھر کی فضا کر گیا معمار فراموش
33
بھولے نہ مرے دل سے مرا مصرع جانکاہ
نالہ نہ کرے مرغ گرفتار فراموش
44
دل سے نہ گئی آہ ہوس سیر چمن کی
اور ہم نے کیا رخنۂ دیوار فراموش
55
یا نالہ ہی کر منع تو یا گریہ کو ناصح
دو چیز نہ عاشق سے ہو یک بار فراموش
66
بھولا پھروں ہوں آپ کو اک عمر ہے لیکن
تجھ کو نہ کیا دل سے میں زنہار فراموش
77
دل درد سے کس طرح مرا خالی ہو سوداؔ
وہ ناشنو حرف میں گفتار فراموش
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

