شاعر
مرزا محمد رفیع سوداؔ
مرزا محمد رفیع سوداؔ اٹھارہویں صدی کی اردو شاعری کی توانا ترین آوازوں میں شمار ہوتے ہیں اور میر تقی میرؔ کے ہم عصر تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے، سیاسی انتشار سے بھرپور عہد دیکھا، اور بعد ازاں فرخ آباد، فیض آباد اور لکھنؤ میں بھی قیام کیا۔ ان کا تخلص ’’سوداؔ‘‘ ان کے کلام کی قوت، شوخی اور زبان پر غیر معمولی قدرت کی علامت بن گیا۔
سوداؔ نے غزل، قصیدہ، ہجو، مرثیہ، مثنوی، رباعی اور دوسری اصناف میں طبع آزمائی کی، مگر اردو قصیدے اور ہجو کے استاد کی حیثیت سے ان کا مقام خاص طور پر بلند ہے۔ ان کی شاعری میں بلند آہنگ بیان، جاندار منظر نگاری، برجستہ طنز اور اپنے عہد کے سماجی انتشار کا گہرا مشاہدہ ملتا ہے۔ شہر آشوب اور ہجویہ کلام اٹھارہویں صدی کی معاشرت کا ایک نادر شعری ریکارڈ بھی ہیں۔
غزل میں ان کا ذکر عموماً میرؔ کے ساتھ آتا ہے، لیکن سوداؔ کا مزاج جدا تھا: خارجی، ڈرامائی اور وسیع میدان کا طلب گار۔ اردو زبان کی ابتدائی ادبی تشکیل اور اس کی اظہاری قوت کو وسعت دینے میں ان کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

