دیکھے بلبل جو یار کی صورت
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1دیکھے بلبل جو یار کی صورت
11
دیکھے بلبل جو یار کی صورت
پھر نہ دیکھے بہار کی صورت
22
برق دیکھی ہو جس نے سو جانے
مجھ دل بے قرار کی صورت
33
دل ترستا ہے دیکھنے کو مرا
خنجر آب دار کی صورت
44
جو کوئی دیکھتا ہے روتا ہے
مجھ دل داغ دار کی صورت
55
وہی سوداؔ کے دل کی سمجھیں قدر
دیکھیں جو لالہ زار کی صورت
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

