صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا
Toggle stanza 1صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا
11
صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا
تس پہ شکوہ نہ کبھی میری زباں پر آیا
22
راست کیشوں کی تف آہ سے ڈر اے سرکش
تیر پھرتا نہیں جس وقت نشاں پر آیا
33
موسم شیب میں بے فائدہ ہے لعب شباب
کب ثمر دیوے ہے جو نخل خزاں پر آیا
44
دل پر خوں کو مرے غنچۂ تصویر کی طرح
لب وا شد نہ کبھی راز نہاں پر آیا
55
چشم انجم پہ نہیں ابر سے وہ روز سیاہ
جو مرے دیدۂ خوں ناب چکاں پر آیا
66
رات کو دیکھ کے اے ماہ تجھے غیر کے ساتھ
طعنہ زن دل کا مرے گل کے کتاں پر آیا
77
ہو کے استاد دبستان سخن میں سوداؔ
شعر کے قاعدہ دانان جہاں پر آیا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

