واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
شاعر: بہادر شاہ ظفرؔ
Toggle stanza 1واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
11
واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
اور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہے
22
وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آج
ورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے
33
ہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنی
دل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے
44
پہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل ربا
باندھتا منصوبے پھر وہ مل کے دل میں اور ہے
55
ہے مجھے بعد از سوال بوسہ خواہش وصل کی
یہ تمنا ایک اس سائل کے دل میں اور ہے
66
گو وہ محفل میں نہ بولا پا گئے چتون سے ہم
آج کچھ اس رونق محفل کے دل میں اور ہے
77
یوں تو ہے وہ ہی دل عالم کے دل میں اے ظفرؔ
اس کا عالم مرد صاحب دل کے دل میں اور ہے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

