واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے

Toggle stanza 1
واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
1

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے

اور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہے

2

وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آج

ورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے

3

ہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنی

دل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے

4

پہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل ربا

باندھتا منصوبے پھر وہ مل کے دل میں اور ہے

5

ہے مجھے بعد از سوال بوسہ خواہش وصل کی

یہ تمنا ایک اس سائل کے دل میں اور ہے

6

گو وہ محفل میں نہ بولا پا گئے چتون سے ہم

آج کچھ اس رونق محفل کے دل میں اور ہے

7

یوں تو ہے وہ ہی دل عالم کے دل میں اے ظفرؔ

اس کا عالم مرد صاحب دل کے دل میں اور ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…