واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے

Toggle stanza 1
واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
1

واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے

یہ جدائی نہیں تو پھر کیا ہے

2

ہو ملاقات تو صفائی سے

اور صفائی نہیں تو پھر کیا ہے

3

دل ربا کو ہے دل ربائی شرط

دل ربائی نہیں تو پھر کیا ہے

4

گلہ ہوتا ہے آشنائی میں

آشنائی نہیں تو پھر کیا ہے

5

اللہ اللہ رے ان بتوں کا غرور

یہ خدائی نہیں تو پھر کیا ہے

6

موت آئی تو ٹل نہیں سکتی

اور آئی نہیں تو پھر کیا ہے

7

مگس قاب اغنیا ہونا ہے

بے حیائی نہیں تو پھر کیا ہے

8

بوسۂ لب دل شکستہ کو

مومیائی نہیں تو پھر کیا ہے

9

نہیں رونے میں گر ظفرؔ تاثیر

جگ ہنسائی نہیں تو پھر کیا ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…