واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
شاعر: بہادر شاہ ظفرؔ
Toggle stanza 1واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
11
واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
یہ جدائی نہیں تو پھر کیا ہے
22
ہو ملاقات تو صفائی سے
اور صفائی نہیں تو پھر کیا ہے
33
دل ربا کو ہے دل ربائی شرط
دل ربائی نہیں تو پھر کیا ہے
44
گلہ ہوتا ہے آشنائی میں
آشنائی نہیں تو پھر کیا ہے
55
اللہ اللہ رے ان بتوں کا غرور
یہ خدائی نہیں تو پھر کیا ہے
66
موت آئی تو ٹل نہیں سکتی
اور آئی نہیں تو پھر کیا ہے
77
مگس قاب اغنیا ہونا ہے
بے حیائی نہیں تو پھر کیا ہے
88
بوسۂ لب دل شکستہ کو
مومیائی نہیں تو پھر کیا ہے
99
نہیں رونے میں گر ظفرؔ تاثیر
جگ ہنسائی نہیں تو پھر کیا ہے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

