بہادر شاہ ظفرؔ

شاعر

بہادر شاہ ظفرؔ

1775 — 1862عیسوی

بہادر شاہ ظفرؔ، آخری مغل بادشاہ، شاعر، خطاط اور دہلی کی ادبی تہذیب کے سرپرست بھی تھے۔ لال قلعے میں پیدا ہوئے، عربی و فارسی کی تعلیم پائی، اور شاعری، موسیقی، خطاطی اور تصوف سے گہری دل چسپی رکھی۔ ’’ظفرؔ‘‘ تخلص اختیار کیا اور ابتدا میں ذوقؔ، پھر غالبؔ سے اپنے کلام پر اصلاح لی۔

ان کی سیاسی سلطنت محدود تھی، مگر ان کا دربار مغلیہ دہلی کے آخری دور میں شعرا کی ایک اہم مجلس رہا۔ 1857ء کی جنگ کے بعد انگریزوں نے ان پر مقدمہ چلایا اور رنگون جلا وطن کر دیا۔ خاندان کے افراد کی ہلاکت، اپنے شہر اور تہذیبی دنیا کی تباہی، اور جلا وطنی کا دکھ ان کی تاریخی یاد سے ہمیشہ کے لیے وابستہ ہو گیا۔

ظفرؔ کی غزلیں سادگی، حزن اور بے ثباتی کے احساس کے لیے معروف ہیں۔ محرومی، جدائی، وطن کی یاد اور تسلیم و رضا ان کے نمایاں موضوعات ہیں، جن میں ایک پورے عہد کے زوال نے آواز پائی۔ انہوں نے 1862ء میں دہلی سے دور رنگون میں وفات پائی۔

کلام

صنف

اصناف

وزن

اوزان