واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
Toggle stanza 1واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
11
واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
اور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیں
22
دیوانے تیرے دشت میں رکھیں گے جب قدم
مجنوں بھی لے گا ان کے قدم ایسے شخص ہیں
33
جن پہ ہوں ایسے ظلم و ستم ہم نہیں وہ لوگ
ہوں روز بلکہ لطف و کرم ایسے شخص ہیں
44
یوں تو بہت ہیں اور بھی خوبان دل فریب
پر جیسے پر فن آپ ہیں کم ایسے شخص ہیں
55
کیا کیا جفا کشوں پہ ہیں ان دلبروں کے ظلم
ایسوں کے سہتے ایسے ستم ایسے شخص ہیں
66
دیں کیا ہے بلکہ دیجئے ایمان بھی انہیں
زاہد یہ بت خدا کی قسم ایسے شخص ہیں
77
آزردہ ہوں عدو کے جو کہنے پہ اے ظفر
نے ایسے شخص وہ ہیں نہ ہم ایسے شخص ہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

