واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں

Toggle stanza 1
واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
1

واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں

اور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیں

2

دیوانے تیرے دشت میں رکھیں گے جب قدم

مجنوں بھی لے گا ان کے قدم ایسے شخص ہیں

3

جن پہ ہوں ایسے ظلم و ستم ہم نہیں وہ لوگ

ہوں روز بلکہ لطف و کرم ایسے شخص ہیں

4

یوں تو بہت ہیں اور بھی خوبان دل فریب

پر جیسے پر فن آپ ہیں کم ایسے شخص ہیں

5

کیا کیا جفا کشوں پہ ہیں ان دلبروں کے ظلم

ایسوں کے سہتے ایسے ستم ایسے شخص ہیں

6

دیں کیا ہے بلکہ دیجئے ایمان بھی انہیں

زاہد یہ بت خدا کی قسم ایسے شخص ہیں

7

آزردہ ہوں عدو کے جو کہنے پہ اے ظفر

نے ایسے شخص وہ ہیں نہ ہم ایسے شخص ہیں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…