تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
غزل شمارهٔ 51بحرفی می توان گفتن تمنای جهانی را
سارے جہان کی تمنا ایک حرف میں ادا کی جا سکتی ہے؛ مگر میں نے اپنی داستاں کو اس لیے طول دیا ہے کہ آپ کی حضوری سے زیادہ دیر تک لطف اندوز ہوتا رہوں۔
غزل شمارهٔ 52چند بروی خودکشی پردهٔ صبح و شام را
کب تک آپ اپنے چہرۂ جمال پر صبح و شام کا پردہ ڈالے رکھیں گے (کب تک حسن ذات پر صفات کے پردے پڑے رہیں گے)؛ پردہ ہٹائیے اور اپنے جلوۂ ناتمام کو پوری طرح نمایاں کیجیے۔ ( پردہ چہرے سے اٹھا انجمن آرائی کر \-
غزل شمارهٔ 53نفس شمار به پیچاک روزگار خودیم
ہم اپنے زمانے کے پھندے میں پھنسے ہوئے سانس گن رہے ہیں؛ سمندر کی طرح جوش و خروش دیکھاتے ہیں، مگر کناروں سے باہر نہیں جا سکے۔
غزل شمارهٔ 54به فغان نه لب گشودم که فغان اثر ندارد
میں نے فغاں کے لیے لب نہیں کھولے کیونکہ فغاں اثر نہیں رکھتی ، غم دل نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص میں اس کی برداشت کا حوصلہ نہیں۔
غزل شمارهٔ 55ما که افتندهتر از پرتو ماه آمدهایم
ہم جو چاندنی سے زیادہ خاک افتادہ ہیں؛ کسی کو کیا معلوم کہ ہم نے یہ ساری راہ کس طرح طے کی ہے۔
غزل شمارهٔ 56ای خدای مهر و مه خاک پریشانی نگر
اے مہر و مہ کے مالک! (ہم انسانوں کی) خاک پریشان کی طرف بھی دیکھیے ؛ ذرا اس بیابان پر نظر ڈالیے ، اس کا ایک ایک ذرہ اپنے اندر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔
«شاخ نهال سدرهای خار و خس چمن مشو»
دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم
غزل شمارهٔ 1بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد
ٹھ کہ آدم (کی عظمت) کے اظہار کا وقت آ گیا ہے، (دیکھو!) ستارے اس مشت خاک کو سجدہ کر رہے ہیں۔
غزل شمارهٔ 2مه و ستاره که در راه شوق هم سفرند
چند ستارے جو راہ شوق میں ہمارے ہم سفر ہیں، وہ کرشمہ سنج، ادا فہم اور صاحب نظر ہیں۔
غزل شمارهٔ 3درون لاله گذر چون صبا توانی کرد
صبا کی مانند گل لالہ کے اندر داخل ہوا جا سکتا ہے، اور ایک ہی پھونک سے غنچے کی گرہ کھولی جا سکتی ہے۔
غزل شمارهٔ 5زمانه قاصد طیار آن دلآرام است
زمانہ اس محبوب (اللہ تعالیٰ ) کا تیز رو قاصد ہے، کیا قاصد ہے کہ اس کا سارا وجود ہی پیغام ہے۔
غزل شمارهٔ 6دگر ز ساده دلیهای یار نتوان گفت
اس سے زیادہ دوست کی سادہ دلی کیا ہو سکتی ہے کہ ، میرے سرہانے بیٹھ کر علاج کی باتیں کر رہا ہے (وہ نہیں سمجھتا کہ وہ خود ہی میری بیماری کا علاج ہے)۔
غزل شمارهٔ 7خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است
خرد جو ہر موجود کی جستجو کرتی اور اسے پاتی رہی ہے، وہ ذوق نظر کی وجہ سے گرم تماشہ ہے۔
غزل شمارهٔ 8غلام زنده دلانم که عاشق سره اند
میں ایسے زندہ دلوں کا غلام ہوں جو حسن حقیقی کے عاشق ہیں، نہ کہ ان خانقاہ نشینوں کا جو سوز محبت سے خالی ہیں۔
غزل شمارهٔ 10تکیه بر حجت و اعجاز و بیان نیز کنند
کبھی دلائل اور فصاحت سے بھی کام لیتے ہیں ، اور کبھی حق کو پھیلانے کے لیے شمشیر و سنا ں بھی استعمال کرتے ہیں۔
غزل شمارهٔ 11چو موج مست خودی باش و سر بطوفان کش
موج کی مانند مست خودی رہ اور طوفان کے اندر سے سر اٹھا ، تجھے کس نے کہا ہے کہ تو بیٹھ رہ اور جد و جہد چھوڑ دے۔
غزل شمارهٔ 13ز سلطان کنم آرزوی نگاهی
پادشاہوں سے نگاہ التفات کی آرزو کروں ، مسلمان مٹی کا خدا نہیں بناتا۔
غزل شمارهٔ 14با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن
ہر دم درویشی کے نشے میں مست رہ ، جب فقر میں پختہ ہو جائے تو پھر سلطنت جام کے خلاف معرکہ آرا ہو۔
غزل شمارهٔ 16فرشته گرچه برون از طلسم افلاک است
اگرچہ فرشتہ طلسم افلاک سے باہر ہے ، تا ہم اس کی نظر اس کف خاک (اولاد آدم) کی کوشش و محبت پر ہے۔
غزل شمارهٔ 17عرب که باز دهد محفل شبانه کجاست
وہ عرب کہاں ہے جو پھر وہی محفل شبانہ سجائے، کہاں ہے وہ عجم جو دریا عشق (تصوّف ) کو از سر نو زندہ کرے۔
غزل شمارهٔ 18مانند صبا خیز و وزیدن دگر آموز
اٹھ اور دوبارہ صبا کی طرح چلنا سیکھ، پھر سے گل و لالہ کی شگفتگی کا باعث بن، پھر دل گرفتہ غنچے کے اندر اترنا سیکھ۔
غزل شمارهٔ 19ای غنچهٔ خوابیده، چو نرگس نگران خیز
اے غنچۂ خوابیدہ نرگس کی مانند دیکھتا ہوا اٹھ؛ دیکھ ہمارے گھر کو غموں نے تاخت و تاراج کر دیا ہے؛ طائرچمن کے نالہ سے اٹھ، بانگ اذاں سے اٹھ؛ آتش بیابانوں کی گرمی ء آواز سے اٹھ۔ اس خواب گراں ، خواب گراں ، خواب گراں سے بیدار ہو! خواب گراں سے بیدار ہو!
غزل شمارهٔ 20جهان ما همه خاک است و پی سپر گردد
ہماری دنیا خاک کی مانند پامال ہو چکی ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ پرانے لمحات پھر کبھی واپس آئیں ۔
غزل شمارهٔ 21باز بر رفته و آینده نظر باید کرد
اپنے ماضی و مستقبل پر دوبارہ نظر ڈالنی چاہیے ؛ خبردار اٹھ دوبارہ غور و فکر کرنا چاہیے۔
غزل شمارهٔ 22خیال من به تماشای آسمان بود است
میرا تخیل سیر آسمان کے نظارے میں محو رہا ہے؛ کبھی وہ دوش ماہ پر پہنچا اور کبھی آغوش کہکشاں میں۔
غزل شمارهٔ 23از نوا بر من قیامت رفت و کس آگاه نیست
میری نوا سے مجھ پر قیامت گزر گئی ہے؛ لیکن کسی کو خبر نہیں ؛ محفل صرف آواز کے زیر و بم اور مقام راہ ہی کو دیکھتی ہے۔
غزل شمارهٔ 24شراب میکدهٔ من نه یادگار جم است
میرے میکدے کی شراب 'جمشید' کی یادگار نہیں ( میری شاعری رسمی نہیں )، میں نے تو عجم کے جام میں اپنا جگر نچوڑ دیا ہے۔
غزل شمارهٔ 25لاله صحرایم از طرف خیابانم برید
میں لالۂ صحرا ہوں مجھے خیاباں سے لے جائیں، مجھے دشت و بیابان و کوہسار کی (آزاد ) ہوا میں لے جائیں۔
غزل شمارهٔ 26سخن تازه زدم کس بسخن وا نرسید
میں نئی بات کہتا ہوں مگر کوئی میری نہیں سمجھتا؛ جلوہ خوں ہو چکا ہے لیکن اسے دیکھنے کے لیے ایک نگاہ بھی نہیں پہنچی۔
غزل شمارهٔ 27عاشق آن نیست که لب گرم فغانی دارد
عاشق وہ نہیں جو ہر دم آہ و فغاں میں لگا رہے، عاشق وہ ہے جو دونوں جہانوں کو اپنی ہتھیلی پر اٹھا لے۔
غزل شمارهٔ 28درین چمن دل مرغان زمان زمان دگر است
اس باغ میں پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ نیا رنگ اختیار کرتا ہے، شاخ گل پر وہ اور طرح (چہچہاتا ) ہے اور آشیاں میں اور طرح۔
غزل شمارهٔ 29ما از خدای گم شدهایم او به جستجوست
ہم اللہ تعالیٰ کی گم شدہ متاع ہیں ، وہ ہماری جستجو میں ہے، (کہ ان میں سے کوئی انسان کامل نکلے) ؛ یہ ہے اس کی آرزو اور خواہش ( جس کے لیے کائنات تخلیق فرمائيے) ۔
غزل شمارهٔ 30خواجه از خون رگ مزدور سازد لعل ناب
سرمایہ دار مزدور کے خون سے سرخ موتی بناتا ہے؛ ادھر زمینداروں کے ظلم سے دہقانوں کی کھیتیاں اجڑ چکی ہیں: انقلاب! انقلاب اے انقلاب۔
غزل شمارهٔ 31گرچه می دانم که روزی بی نقاب آید برون
اگرچہ میں جانتا ہوں کہ مجھے ایک روز دیدار ذات میسّر آ جائے گا، مگر یہ نہ سمجھ کہ دیدار کے بعد مجھے قرار آ جائے گا۔
غزل شمارهٔ 34برون زین گنبد در بسته پیدا کرده ام راهی
میں نے اس گنبد در بستہ سے اوپر نکل جانے کا راستہ پیدا کیا ہے، کیونکہ آہ سحر گاہ کی پرواز فکر سے بلند تر ہے۔
غزل شمارهٔ 35گنهکار غیورم مزد بیخدمت نمیگیرم
میں غیّور گنہگار ہوں بغیر محنت کے مزدوری لینا پسند نہیں کرتا؛ (مجھے مفت کی جنت پسند نہیں ) ؛ مگر افسوس ہے کہ میرے گناہ کو ابلیس کی تقدیر سے وابستہ کر دیا ہے۔
غزل شمارهٔ 37نیابی در جهان یاری که داند دلنوازی را
تجھے دنیا میں کوئی ایسا دوست نہیں ملے گا جو دلنوازی جانتا ہو؛ اس لیے عشق کی آبرو بچا اور اپنے آپ میں گم ہو جا۔
غزل شمارهٔ 38علمی که تو آموزی مشتاق نگاهی نیست
تو جو علم سیکھتا ہے وہ نگاہ (محبت) کا اشتیاق نہیں رکھتا ، یہ راہ حیات کا تھکا ہوا راہی ہے، سرگرم سفر نہیں۔
غزل شمارهٔ 39چو خورشید سحر پیدا نگاهی می توان کردن
اپنی نگاہ کو خورشید سحر کی مانند روشن کیا جا سکتا ہے، اور پھر اس کی مدد سے خاک سیاہ (دنیا) کو اللہ تعالیٰ کے جمال کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے۔
غزل شمارهٔ 40کشیدی باده ها در صحبت بیگانه پی در پی
تو نے غیروں کی صحبت میں پے بہ پے جام لنڈھائے ، اور اپنے پیمانہ (ادراک ) کو دوسروں کی روشنی سے چمکانے کی کوشش کی۔
غزل شمارهٔ 41عشق اندر جستجو افتاد آدم حاصل است
آفتاب نے جستجو اختیار کی (کہ میں پہچانا جاؤں) اس کا حاصل آدم ہے؛ چنانچہ اس کا جلوہ آب و گل کے پردے سے ظاہر ہوا۔
غزل شمارهٔ 43عشق را نازم که بودش را غم نابود نی
مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کے وجود کو مٹ جانے کا غم نہیں، کیونکہ وہ زمان و مکان کی زنّار داری کے کفر سے بچا ہوا ہے،
غزل شمارهٔ 44بر دل بیتاب من ساقی می نابی زند
ساقی نے میرے دل بیتاب پر (عشق کی) مئے ناب ڈالی ہے، وہ کیمیا ساز ہے، اس نے سیماب پر اکسیر ڈال کے اسے زر خالص بنا دیا ہے (دل بیتاب کو سیماب کہا ہے)۔
غزل شمارهٔ 46ز رسم و راه شریعت نکرده ام تحقیق
میں نے شریعت کے احکام کی تحقیق کی ہے، اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ صرف منکر عشق ہی کافر زندیق ہے۔ (اور وہ جو ایمان والے ہیں ان کی اللہ تعالیٰ سے محبت بہت شدید ہے: سورہ بقرہ)۔
غزل شمارهٔ 47از همه کس کناره گیر صحبت آشنا طلب
سب سے کنارہ کش ہو جا اور کسی ایسے شخص کی صحبت اختیار کر جو آشنائے راز ہو۔ اللہ تعالیٰ سے اپنی خودی کا استحکام مانگ اور استحکام خودی کے ذریعے اللہ تعالیٰ تک پہنچ۔
غزل شمارهٔ 48بینی جهان را خود را نبینی
کائنات کو دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتا ، اے نادان! تو کب تک غفلت میں پڑا رہے گا۔
غزل شمارهٔ 49من هیچ نمیترسم از حادثهٔ شبها
میں رات کے حادثات سے بالکل نہیں ڈرتا ؛ رات کیسی بھی ہو ، بالآخر ستاروں کی گردش اسے سحر میں تبدیل کر دیتی ہے۔
غزل شمارهٔ 50تو کیستی ز کجائی که آسمان کبود
تو کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؛ کہ نیلا آسمان ، تیرے دیدار کے لیے ستاروں کی صورت میں ہزاروں آنکھیں کھولے انتظار کر رہا ہے۔
غزل شمارهٔ 52می دیرینه و معشوق جوان چیزی نیست
پرانی شراب اور جواں معشوق کوئی چیز نہیں ، اصحاب نظر کے لیے حور جاں کی کوئی وقعت نہیں۔

