تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم
قلندر جو دنیا کی تسخیر میں کوشاں رہتے ہیں ؛ بظاہر وہ خرقہ پہنتے ہیں لیکن پادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں۔
میں دو دھاری تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے برہنہ کر دیا ہے؛ پھر مجھے سان پر تیز کیا اور زمانے کے مقابل لا کھڑا کیا۔
میں شرر کی مانند ذرّہ میں آگ لگا کر اسے اڑنے کے لیے پر مہیا کرتا ہوں،
دوسروں سے زیادہ میل جول ظاہر کرتا ہے کہ خودی ابھی ناپختہ ہے، اے درد آشنا! تجھے چاہیے کہ تو آشنائی سے بیگانہ رہ۔
اے جوانان عجم! میں اپنی اور تمہاری جان کو خیابان میں چراغ لالہ کی طرح جلا رہا ہوں۔
میرے سانس کو باد بہاراں کی صفت عطا ہوئی ہے: اور میرے آنسو ؤں نے گیاہ کو چنبیلی بنا دیا ہے۔
چھوڑ اس شخص کو جس نے حقیقت کو دیکھا نہیں اور نہ اسے بیان کرتا ہے؛ باتیں بہت بناتا ہے مگر دید کی لڈت سے نا آشنا ہے۔
بڑی مدت کہ بعد میں ساربان کا نغمہ سن رہا ہوں ؛ شاید اس صحرا سے کوئی کاروان گذر رہا ہے۔
اے نادان تو حکیمان فرنگ سے ہمدردی کی توقع رکھتا ہے؛ (تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ) شاہین کا دل اس پرندے کے لیے کبھی نہیں پسیجتا جو اس کے پنجے میں ہو۔
مشرق سے گذر جا اور مغرب سے مسحور نہ ہو؛ کیونکہ ان کے قدیم و جدید (علوم) کی قیمت دو جو کے برابر بھی نہیں۔
جہان رنگ و بو سامنے عیاں ہے اور تو کہتا ہے یہ راز ہے؛ ذرا اس کے تار کو چھیڑ (کے دیکھ) یہ جہان تو ساز ہے اور تو اس کی مضراب ہے۔
بہار آ چکی ہے اور نگاہ آتش لالہ میں غلطاں ہو رہی ہے؛ (میرے) دل لخت لخت سے ہزاروں نالے اٹھتے ہیں۔
خالق نے روز شب پیدا کیے ، اور ان کے ذریعے اپنی صفات کا جلوہ کیا۔
اس گلستان (دنیا ) کا گل لالہ تمنا نہ رکھتا تھا ؛ یہاں کے نرگس طناز چشمۂ نظارہ سے محروم تھی۔
اس قدیم بتخانہ میں کس نے ہنگامہ پیدا کیا ہے؛ کہ یہاں کے سارے پجاری مثل نے نالیدہ ہیں۔
اے لالہ! اے کوہ و باغ و راغ کے چراغ ؛ میری طرف دیکھ میں تجھے زندگی کا سراغ دیتا ہوں۔
میں آزاد بندہ ہوں ، عشق میرا امام ہے؛ عشق میرا امام اور عقل میری غلام ہے۔
کم سخن کلی اپنے دل میں راز چھپائے (بیٹھی تھی) ، ہجوم گل و ریحان میں اسے ہمدم نہ ملنے کا غم تھا۔
اپنے آپ کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ دیر و حرم نہیں رہے؛ یہ عرب میں نہیں، وہ عجم میں نہیں۔