تراجم

میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

126نظمیں

تراجم والی نظمیں

غزل شمارهٔ 53قلندران که به تسخیر آب و گل کوشند

قلندر جو دنیا کی تسخیر میں کوشاں رہتے ہیں ؛ بظاہر وہ خرقہ پہنتے ہیں لیکن پادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 54دو دسته تیغم و گردون برهنه ساخت مرا

میں دو دھاری تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے برہنہ کر دیا ہے؛ پھر مجھے سان پر تیز کیا اور زمانے کے مقابل لا کھڑا کیا۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 55مثل شرر ذره را تن به تپیدن دهم

میں شرر کی مانند ذرّہ میں آگ لگا کر اسے اڑنے کے لیے پر مہیا کرتا ہوں،

اردوEn

غزل شمارهٔ 56خودی را مردم‌آمیزی دلیل نارسایی‌ها

دوسروں سے زیادہ میل جول ظاہر کرتا ہے کہ خودی ابھی ناپختہ ہے، اے درد آشنا! تجھے چاہیے کہ تو آشنائی سے بیگانہ رہ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 57چون چراغ لاله سوزم در خیابان شما

اے جوانان عجم! میں اپنی اور تمہاری جان کو خیابان میں چراغ لالہ کی طرح جلا رہا ہوں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 58دم مرا صفت باد فرودین کردند

میرے سانس کو باد بہاراں کی صفت عطا ہوئی ہے: اور میرے آنسو ؤں نے گیاہ کو چنبیلی بنا دیا ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 59گذر از آنکه ندیدست و جز خبر ندهد

چھوڑ اس شخص کو جس نے حقیقت کو دیکھا نہیں اور نہ اسے بیان کرتا ہے؛ باتیں بہت بناتا ہے مگر دید کی لڈت سے نا آشنا ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 60در این صحرا گذر افتاد شاید کاروانی را

بڑی مدت کہ بعد میں ساربان کا نغمہ سن رہا ہوں ؛ شاید اس صحرا سے کوئی کاروان گذر رہا ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 61ترا نادان امید غمگساریها ز افرنگ است

اے نادان تو حکیمان فرنگ سے ہمدردی کی توقع رکھتا ہے؛ (تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ) شاہین کا دل اس پرندے کے لیے کبھی نہیں پسیجتا جو اس کے پنجے میں ہو۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 62بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو

مشرق سے گذر جا اور مغرب سے مسحور نہ ہو؛ کیونکہ ان کے قدیم و جدید (علوم) کی قیمت دو جو کے برابر بھی نہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 63جهان رنگ و بو پیدا تو میگوئی که راز است این

جہان رنگ و بو سامنے عیاں ہے اور تو کہتا ہے یہ راز ہے؛ ذرا اس کے تار کو چھیڑ (کے دیکھ) یہ جہان تو ساز ہے اور تو اس کی مضراب ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 67بهار آمد نگه می غلطد اندر آتش لاله

بہار آ چکی ہے اور نگاہ آتش لالہ میں غلطاں ہو رہی ہے؛ (میرے) دل لخت لخت سے ہزاروں نالے اٹھتے ہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 68صورت گری که پیکر روز و شب آفرید

خالق نے روز شب پیدا کیے ، اور ان کے ذریعے اپنی صفات کا جلوہ کیا۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 70لاله این گلستان داغ تمنائی نداشت

اس گلستان (دنیا ) کا گل لالہ تمنا نہ رکھتا تھا ؛ یہاں کے نرگس طناز چشمۂ نظارہ سے محروم تھی۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 71هنگامه را که بست درین دیر دیر پای

اس قدیم بتخانہ میں کس نے ہنگامہ پیدا کیا ہے؛ کہ یہاں کے سارے پجاری مثل نے نالیدہ ہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 72ای لاله ای چراغ کهستان و باغ و راغ

اے لالہ! اے کوہ و باغ و راغ کے چراغ ؛ میری طرف دیکھ میں تجھے زندگی کا سراغ دیتا ہوں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 73من بندهٔ آزادم عشق است امام من

میں آزاد بندہ ہوں ، عشق میرا امام ہے؛ عشق میرا امام اور عقل میری غلام ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 74کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت

کم سخن کلی اپنے دل میں راز چھپائے (بیٹھی تھی) ، ہجوم گل و ریحان میں اسے ہمدم نہ ملنے کا غم تھا۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 75خود را کنم سجودی ، دیر و حرم نمانده

اپنے آپ کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ دیر و حرم نہیں رہے؛ یہ عرب میں نہیں، وہ عجم میں نہیں۔

اردوEn

بخش 1به سواد دیدهٔ تو نظر آفریده‌ام من

اردوEn

بخش 2گلشن راز جدید

اردوEn

بندگی نامه

اردوEn

بخش 1موسیقی

اردوEn

بخش 2مصوری

اردوEn

بخش 3مذهب غلامان

اردوEn

در فن تعمیر مردان آزاد

اردوEn