تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم
کتاب زبور پڑھنے والے سے
عشق شور انگیز نے جو بھی راستہ اختیار کیا، اس نے اسے آپ کی گلی تک پہنچا دیا؛ عشق کو اپنی تلاش پر بہت ناز ہے کہ وہ بالآخر آپ تک پہنچ ہی گیا۔
ہمارے سینے میں آپ کی محبت کا سوز کہاں سے آیا؛ بدن تو ہمارا ہے، لیکن اس مٹی کے اندر عشق الہی کی شراب کہاں سے آگئی۔
کوئی غزل چھیڑیے اور پرانی نوا واپس لائیے ! ہم افسردہ دلوں سے دلنواز باتیں کیجیے۔
اے وہ ذات ! جس نے میرے ذریعہ آہ و گریہ کی گرمی بڑھا دی ہے: میری صدا سے مسلمان میں، جو ایک ہزار سال سے خاک کا ڈھیر بن چکا ہے، زندگی کی نئی لہر دوڑا دے۔
ہمارے بدن کی مشت غبار سے (آپ کے فراق میں ) صدہا نالے اٹھتے ہیں؛ کیونکہ آپ میری رگ جان سے قریب تر ہوتے ہوئے بھی مجھ سے دور رہتے ہیں ۔
اگرچہ میں تاریک مٹی سے بنا ہوں ؛ مگر میرا دل میری متاع (خاص) ہے؛ اس کے سبب میں (حق تعالیٰ کے) جمال کے نظارہ کے لیے ستارہ کی مانند بہ چشم وا بیٹھا ہوں (تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز)۔
میں نے اپنی صدائے دردمند اور نوائے دلپذیر سے؛ تشنگی سے قریب المرگ جہان کے لیے خم زندگی کے مونہہ کھول دیے ہیں۔
اپنے چاند جیسے چہرے سے بند کھول دیجیے ؛ کفر و دین دونوں پر اپنی رحمت عام کی بارش کیجیے ( تاکہ دین میں اس بارش سے تر و تازگی پیدا ہو اور کفر اس سے ختم ہو جائے)۔
میری نوا اس لیے پرسوز ، بے باک اور غم انگیز ہے؛ کہ میرے بدن کی خاک میں (محبت کا) شرارہ ہے اور صبح کی ہوا (ہوائے زمانہ) تیز ہے (اسے خوب بھڑکا رہی ہے)۔
دل اور آنکھ دونوں لذت نظارہ کے لیے بیتاب ہیں (مگر آپ کا نظارہ کر نہیں سکتے)؛ اس لیے اگر میں پتھر سے صنم تراشتا ہوں تو اس میں میرا کیا گناہ ہے (خوگر پیکر محسوس ہے انساں کی نظر)۔
اگرچہ عقل کا شاہین فضا میں خوب اڑتا پھرتا ہے؛ مگر اس صحرا میں ایک ایسا تیر انداز موجود ہے جو اس کی تاک میں بیٹھا ہے (عشق کی طرف اشارہ ہے)۔
یہ جہان کیا ہے؟ فقط میرے پندار کا صنم خانہ ہے؛ اس کا جلوہ صرف میری دید کا رہین منّت ہے۔
ایسی فصل بہار! اور بلبلوں کے ترنم کا شور! (میرے محبوب ! ) تو بھی اپنے چہرے سے نقاب اٹھا، موسم کے مطابق (محبت کا ) گیت سنا، اور (عشق کی) شراب پلا۔
مجھے ہست و بود کے پھندے سے باہر نکال لایا؛ مقام رضا نے میرے کیا کیا عقدے حل کر دیے ۔ (جب بندہ اپنی مرضی اللہ تعالیٰ کی مرضی میں گم کر دیتا ہے تو وہ تقدیر کے پھندے سے نکل جاتا ہے۔)
آئیے اور میری خاک تشنہ پر بادۂ حیات (عشق) چھڑکیے ۔ اپنے عشق کی آگ بلند کیجیئے اور ہماری (نفسانی خواہشات کی) آگ بجھائیے۔
آپ کو شاید خیال ہو کہ میں صرف آستانہ کی خواہش رکھتا ہوں؛ نہیں، طواف خانہ سے میرا مقصود صاحب خانہ ہے۔
میرا محبوب راستے میں بیٹھے ہوؤں پر ایک نظر ڈال کے سوار گذر جاتا ہے؛ مجھے سنبھا لیے کہ اس کی نظر نے میرا تو کام تمام کر دیا ہے۔
عقل فلک پیما پر ترکوں کی مانند دلیرانہ شبخون مارنا چاہیئے ؛ درد دل (عشق) کا ایک ذرّہ افلاطون کے سارے علم سے بہتر ہے۔
یا تو مسلمان کو یہ فرمان نہ دیں کہ وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر باہر نکل آئے ؛ یا اس کے فرسودہ پیکر میں نئی جان پیدا کریں؛ یہ کریں یا وہ کریں۔
عقل بھی عشق ہے اور ذوق نگاہ سے بیگانہ نہیں، البتہ اس بیچاری میں جراءت رندانہ نہیں (یہ پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہے)۔
آپ کی جستجو میں جو لذت ملتی ہے وہی سوز و گداز زندگی ہے؛ اگر میں آپ کی طرف سفر نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے۔
یہ گئی گزری محفل جو بادہ و ساقی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو چکی ہے ، اس میں ایسا ندیم کہاں ملے گا جس کے جام میں میں اپنی شراب جاوداں ڈال سکوں۔
ساقی میرے جگر پر ایسا شعلہ ڈال جس میں سوز کی نمی ہو؛ ایک بار پھر میری کف چاک میں آشوب قیامت برپا کر دے۔
مجھے ایسی شراب کا پیالہ عصا فرما: جو میرے گل لالہ کو کھلا دے؛ ساقی! میری مشت خاک کو باد بہار کے سپرد کر دے۔
میں نے اپنے آپ کو ہر اس نقش سے پاک رکھا ہے جو نگاہ کے ذریعے دل پر وارد ہو؛ چونکہ میں آپ کے حسن پاکیزہ کا گدا ہوں اس لیے اپنا ادراک صاف رکھتا ہوں (قرآن پاک میں نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ہے)۔
میرا دل بے قید نور ایمان رکھتے ہوئے بھی کافری کے انداز اپنائے ہے، ایک طرف حرم میں سجدہ کرتا ہے اور دوسری طرف بتوں کی چاکری کرتا ہے۔
محشر میں شاعر سے نالۂ مستانہ کا مطالبہ کیوں؟ آپ کا اپنا حسن ہی ہنگامہ زا ہے، کسی اور ہنگامے کی کیا ضرورت ہے۔
نہ تو میرا ذہن کفر و ایمان کا کارزار ہے؛ اور نہ میری جان غم اندوز میں باغ رضوان کی خواہش ہے۔
بلبل شیریں نوا ہو یا شاہین شکاری یہ سب آپ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں؛ زندگی کا جمال ہو یا جلال سب آپ ہی کی طرف سے ہے۔
محبت کی راہ میں ایک قدم ہزار پارسائی سے بہتر ہے۔
میرے دل پر اس کا حملہ کرنا دیکھیے ؛ مارنا، جلانا ، اور پھر اسے از سر نو بنانا دیکھیے۔
راہ طلب میں ابھی تک میں علائق دنیا میں گرفتار ہوں؛ ابھی تک میرا قافلہ ، سامان اور منزل کے چکر میں ہے۔
نہ مجھے گھر کی خواہش ہے نہ منزل کی؛ ہمیشہ کا مسافر اور ہر شہر میں اجنبی ہوں۔
آپ نے میری رات کو سحر سے آشنا کر دیا ہے؛ چونکہ آپ طلعت میں آفتاب کی مانند ہیں، اس لیے مناسب ہے کہ آپ بے حجاب نظر آئیں۔
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
مجھے ایسا دل عطا فرمائیے جو اپنی شراب سے مست ہو؛ یہ دل لے لیجیے جو از خود رفتہ ہے اور دوسروں کے افکار رکھتا ہے۔
مٹھی بھر خاک میری متاع ہے میں اسے راہ میں بکھیر رہا ہوں؛ اس امید پر کہ ایک روز اسے آسمان تک پہنچا دوں گا۔
آپ نے مجھے جو دل عطا فرمایا ہے یہ یقین سے پر ہو جائے ؛ تاکہ میرا یہ جام جہاں بیں اور زیادہ روشن ہو۔
عشق کی بات اہل ہوس سے نہیں کی جا سکتی؛ جیسے شعلے کی تاب و تب کی بات خس سے نہیں کہی جا سکتی۔
وہ کیا دن تھے جب میں چنگ و نے کے ساتھ شراب پیتا تھا ؛ جام شراب میرے ہاتھ میں ہوتا اور مینائے مے محبوب کے ہاتھ میں۔
ہماری دیدۂ تر نے ہمارے گریباں پر ستارے گرائے ہیں؛ ہمارے آنسوؤں نے ہمارے اندر جو ذوق نظر پیدا کیا ہے وہ ہمیں آسمان سے زیادہ بلندی پر لے گیا۔
مشرق کہ جس کے تخّیل کی کمند میں آسمان ہے؛ وہ اپنے آپ سے دور اور سوز آرزو (شوق) سے بیگانہ ہو چکا ہے۔
اس دل بے قرار کو تڑپنے کا موقعہ نہ دے؛ اس کے گرد اپنے پیچدار گیسوؤں کے ایک دو شکن اور بڑھا دے۔
میری جان زمانہ میں کہتی ہوئی ندی ہے؛ پہاڑوں کے اندر بہتی ہوئی ندی کی مانند فریاد کناں ہے۔
آپ نے میرے دل بے قرار کو جو تسلی دی تھی ( کہ میں رگ جاں سے بھی قریب ہوں) اس سے اس کی بے قراری دور نہیں ہوئی۔