تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
به خوانندهٔ کتاب زبور
کتاب زبور پڑھنے والے سے
ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم
دعا
غزل شمارهٔ 1«عشق شور انگیز را هر جاده در کوی تو برد»
عشق شور انگیز نے جو بھی راستہ اختیار کیا، اس نے اسے آپ کی گلی تک پہنچا دیا؛ عشق کو اپنی تلاش پر بہت ناز ہے کہ وہ بالآخر آپ تک پہنچ ہی گیا۔
غزل شمارهٔ 2درونِ سینهٔ ما سوزِ آرزو ز کجاست؟
ہمارے سینے میں آپ کی محبت کا سوز کہاں سے آیا؛ بدن تو ہمارا ہے، لیکن اس مٹی کے اندر عشق الہی کی شراب کہاں سے آگئی۔
غزل شمارهٔ 3غزل سُرای و نواهای رفته بازآور
کوئی غزل چھیڑیے اور پرانی نوا واپس لائیے ! ہم افسردہ دلوں سے دلنواز باتیں کیجیے۔
غزل شمارهٔ 4ای که ز من فزودهای گرمی آه و ناله را
اے وہ ذات ! جس نے میرے ذریعہ آہ و گریہ کی گرمی بڑھا دی ہے: میری صدا سے مسلمان میں، جو ایک ہزار سال سے خاک کا ڈھیر بن چکا ہے، زندگی کی نئی لہر دوڑا دے۔
غزل شمارهٔ 5از مشتِ غبار ما صد ناله برانگیزی
ہمارے بدن کی مشت غبار سے (آپ کے فراق میں ) صدہا نالے اٹھتے ہیں؛ کیونکہ آپ میری رگ جان سے قریب تر ہوتے ہوئے بھی مجھ سے دور رہتے ہیں ۔
غزل شمارهٔ 6من اگرچه تیره خاکم دلکیست برگ و سازم
اگرچہ میں تاریک مٹی سے بنا ہوں ؛ مگر میرا دل میری متاع (خاص) ہے؛ اس کے سبب میں (حق تعالیٰ کے) جمال کے نظارہ کے لیے ستارہ کی مانند بہ چشم وا بیٹھا ہوں (تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز)۔
غزل شمارهٔ 7بصدای درمندی بنوای دلپذیری
میں نے اپنی صدائے دردمند اور نوائے دلپذیر سے؛ تشنگی سے قریب المرگ جہان کے لیے خم زندگی کے مونہہ کھول دیے ہیں۔
غزل شمارهٔ 8بر سر کفر و دین فشان رحمتِ عامِ خویش را
اپنے چاند جیسے چہرے سے بند کھول دیجیے ؛ کفر و دین دونوں پر اپنی رحمت عام کی بارش کیجیے ( تاکہ دین میں اس بارش سے تر و تازگی پیدا ہو اور کفر اس سے ختم ہو جائے)۔
غزل شمارهٔ 9نوای من از آن پر سوز و بیباک و غم انگیزست
میری نوا اس لیے پرسوز ، بے باک اور غم انگیز ہے؛ کہ میرے بدن کی خاک میں (محبت کا) شرارہ ہے اور صبح کی ہوا (ہوائے زمانہ) تیز ہے (اسے خوب بھڑکا رہی ہے)۔
غزل شمارهٔ 10دل دیده ئی که دارم همه لذت نظاره
دل اور آنکھ دونوں لذت نظارہ کے لیے بیتاب ہیں (مگر آپ کا نظارہ کر نہیں سکتے)؛ اس لیے اگر میں پتھر سے صنم تراشتا ہوں تو اس میں میرا کیا گناہ ہے (خوگر پیکر محسوس ہے انساں کی نظر)۔
غزل شمارهٔ 11گرچه شاهین خرد بر سر پروازی هست
اگرچہ عقل کا شاہین فضا میں خوب اڑتا پھرتا ہے؛ مگر اس صحرا میں ایک ایسا تیر انداز موجود ہے جو اس کی تاک میں بیٹھا ہے (عشق کی طرف اشارہ ہے)۔
غزل شمارهٔ 12این جهان چیست صنم خانهٔ پندار من است
یہ جہان کیا ہے؟ فقط میرے پندار کا صنم خانہ ہے؛ اس کا جلوہ صرف میری دید کا رہین منّت ہے۔
غزل شمارهٔ 13فصل بهار این چنین بانگ هزار این چنین
ایسی فصل بہار! اور بلبلوں کے ترنم کا شور! (میرے محبوب ! ) تو بھی اپنے چہرے سے نقاب اٹھا، موسم کے مطابق (محبت کا ) گیت سنا، اور (عشق کی) شراب پلا۔
غزل شمارهٔ 14برون کشید ز پیچاک هست و بود مرا
مجھے ہست و بود کے پھندے سے باہر نکال لایا؛ مقام رضا نے میرے کیا کیا عقدے حل کر دیے ۔ (جب بندہ اپنی مرضی اللہ تعالیٰ کی مرضی میں گم کر دیتا ہے تو وہ تقدیر کے پھندے سے نکل جاتا ہے۔)
غزل شمارهٔ 15خیز و به خاک تشنهای بادهٔ زندگی فشان
آئیے اور میری خاک تشنہ پر بادۂ حیات (عشق) چھڑکیے ۔ اپنے عشق کی آگ بلند کیجیئے اور ہماری (نفسانی خواہشات کی) آگ بجھائیے۔
غزل شمارهٔ 16تو باین گمان که شاید سر آستانه دارم
آپ کو شاید خیال ہو کہ میں صرف آستانہ کی خواہش رکھتا ہوں؛ نہیں، طواف خانہ سے میرا مقصود صاحب خانہ ہے۔
غزل شمارهٔ 17نظر به راهنشینان سواره میگذرد
میرا محبوب راستے میں بیٹھے ہوؤں پر ایک نظر ڈال کے سوار گذر جاتا ہے؛ مجھے سنبھا لیے کہ اس کی نظر نے میرا تو کام تمام کر دیا ہے۔
غزل شمارهٔ 18بر عقل فلک پیما ترکانه شبیخون به
عقل فلک پیما پر ترکوں کی مانند دلیرانہ شبخون مارنا چاہیئے ؛ درد دل (عشق) کا ایک ذرّہ افلاطون کے سارے علم سے بہتر ہے۔
غزل شمارهٔ 19یا مسلمان را مده فرمان که جان بر کف بنه
یا تو مسلمان کو یہ فرمان نہ دیں کہ وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر باہر نکل آئے ؛ یا اس کے فرسودہ پیکر میں نئی جان پیدا کریں؛ یہ کریں یا وہ کریں۔
غزل شمارهٔ 20عقل هم عشق است و از ذوق نگه بیگانه نیست
عقل بھی عشق ہے اور ذوق نگاہ سے بیگانہ نہیں، البتہ اس بیچاری میں جراءت رندانہ نہیں (یہ پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہے)۔
غزل شمارهٔ 21سوز و گداز زندگی لذت جستجوی تو
آپ کی جستجو میں جو لذت ملتی ہے وہی سوز و گداز زندگی ہے؛ اگر میں آپ کی طرف سفر نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے۔
غزل شمارهٔ 22درین محفل که کار او گذشت از باده و ساقی
یہ گئی گزری محفل جو بادہ و ساقی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو چکی ہے ، اس میں ایسا ندیم کہاں ملے گا جس کے جام میں میں اپنی شراب جاوداں ڈال سکوں۔
غزل شمارهٔ 23ساقیا بر جگرم شعلهٔ نمناک انداز
ساقی میرے جگر پر ایسا شعلہ ڈال جس میں سوز کی نمی ہو؛ ایک بار پھر میری کف چاک میں آشوب قیامت برپا کر دے۔
غزل شمارهٔ 24از آن آبی که در من لاله کارد ساتگینی ده
مجھے ایسی شراب کا پیالہ عصا فرما: جو میرے گل لالہ کو کھلا دے؛ ساقی! میری مشت خاک کو باد بہار کے سپرد کر دے۔
غزل شمارهٔ 25ز هر نقشی که دل از دیده گیرد پاک میآیم
میں نے اپنے آپ کو ہر اس نقش سے پاک رکھا ہے جو نگاہ کے ذریعے دل پر وارد ہو؛ چونکہ میں آپ کے حسن پاکیزہ کا گدا ہوں اس لیے اپنا ادراک صاف رکھتا ہوں (قرآن پاک میں نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ہے)۔
غزل شمارهٔ 26دل بی قید من با نور ایمان کافری کرده
میرا دل بے قید نور ایمان رکھتے ہوئے بھی کافری کے انداز اپنائے ہے، ایک طرف حرم میں سجدہ کرتا ہے اور دوسری طرف بتوں کی چاکری کرتا ہے۔
غزل شمارهٔ 27ز شاعر ناله مستانه در محشر چه میخواهی
محشر میں شاعر سے نالۂ مستانہ کا مطالبہ کیوں؟ آپ کا اپنا حسن ہی ہنگامہ زا ہے، کسی اور ہنگامے کی کیا ضرورت ہے۔
غزل شمارهٔ 28نه در اندیشهٔ من کار زار کفر و ایمانی
نہ تو میرا ذہن کفر و ایمان کا کارزار ہے؛ اور نہ میری جان غم اندوز میں باغ رضوان کی خواہش ہے۔
غزل شمارهٔ 29مرغ خوش لهجه و شاهین شکاری از تست
بلبل شیریں نوا ہو یا شاہین شکاری یہ سب آپ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں؛ زندگی کا جمال ہو یا جلال سب آپ ہی کی طرف سے ہے۔
غزل شمارهٔ 30خوشتر ز هزار پارسائی
محبت کی راہ میں ایک قدم ہزار پارسائی سے بہتر ہے۔
غزل شمارهٔ 31بر جهان دل من تاختنش را نگرید
میرے دل پر اس کا حملہ کرنا دیکھیے ؛ مارنا، جلانا ، اور پھر اسے از سر نو بنانا دیکھیے۔
غزل شمارهٔ 32مرا براه طلب بار در گل است هنوز
راہ طلب میں ابھی تک میں علائق دنیا میں گرفتار ہوں؛ ابھی تک میرا قافلہ ، سامان اور منزل کے چکر میں ہے۔
غزل شمارهٔ 34هوای خانه و منزل ندارم
نہ مجھے گھر کی خواہش ہے نہ منزل کی؛ ہمیشہ کا مسافر اور ہر شہر میں اجنبی ہوں۔
غزل شمارهٔ 36شب من سحر نمودی که به طلعت آفتابی
آپ نے میری رات کو سحر سے آشنا کر دیا ہے؛ چونکہ آپ طلعت میں آفتاب کی مانند ہیں، اس لیے مناسب ہے کہ آپ بے حجاب نظر آئیں۔
غزل شمارهٔ 37درین میخانه ای ساقی ندارم محرمی دیگر
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
غزل شمارهٔ 38بجهان دردمندان تو بگو چه کار داری
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
غزل شمارهٔ 39اگر نظاره از خود رفتگی آرد حجاب اولی
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
غزل شمارهٔ 41بده آندل که مستی های او از بادهٔ خویش است
مجھے ایسا دل عطا فرمائیے جو اپنی شراب سے مست ہو؛ یہ دل لے لیجیے جو از خود رفتہ ہے اور دوسروں کے افکار رکھتا ہے۔
غزل شمارهٔ 42کف خاکی برگ و سازم برهی فشانم او را
مٹھی بھر خاک میری متاع ہے میں اسے راہ میں بکھیر رہا ہوں؛ اس امید پر کہ ایک روز اسے آسمان تک پہنچا دوں گا۔
غزل شمارهٔ 43این دل که مرا دادی لبریز یقین بادا
آپ نے مجھے جو دل عطا فرمایا ہے یہ یقین سے پر ہو جائے ؛ تاکہ میرا یہ جام جہاں بیں اور زیادہ روشن ہو۔
غزل شمارهٔ 44رمز عشق تو به ارباب هوس نتوان گفت
عشق کی بات اہل ہوس سے نہیں کی جا سکتی؛ جیسے شعلے کی تاب و تب کی بات خس سے نہیں کہی جا سکتی۔
غزل شمارهٔ 45یاد ایامی که خوردم باده ها با چنگ و نی
وہ کیا دن تھے جب میں چنگ و نے کے ساتھ شراب پیتا تھا ؛ جام شراب میرے ہاتھ میں ہوتا اور مینائے مے محبوب کے ہاتھ میں۔
غزل شمارهٔ 46انجم بگریبان ریخت این دیدهٔ تر ما را
ہماری دیدۂ تر نے ہمارے گریباں پر ستارے گرائے ہیں؛ ہمارے آنسوؤں نے ہمارے اندر جو ذوق نظر پیدا کیا ہے وہ ہمیں آسمان سے زیادہ بلندی پر لے گیا۔
غزل شمارهٔ 47خاور که آسمان بکمند خیال اوست
مشرق کہ جس کے تخّیل کی کمند میں آسمان ہے؛ وہ اپنے آپ سے دور اور سوز آرزو (شوق) سے بیگانہ ہو چکا ہے۔
غزل شمارهٔ 48فرصت کشمکش مده این دل بی قرار را
اس دل بے قرار کو تڑپنے کا موقعہ نہ دے؛ اس کے گرد اپنے پیچدار گیسوؤں کے ایک دو شکن اور بڑھا دے۔
غزل شمارهٔ 49جانم در آویخت با روزگاران
میری جان زمانہ میں کہتی ہوئی ندی ہے؛ پہاڑوں کے اندر بہتی ہوئی ندی کی مانند فریاد کناں ہے۔
غزل شمارهٔ 50به تسلئی که دادی نگذاشت کار خود را
آپ نے میرے دل بے قرار کو جو تسلی دی تھی ( کہ میں رگ جاں سے بھی قریب ہوں) اس سے اس کی بے قراری دور نہیں ہوئی۔

