غزل شمارهٔ 37
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
Toggle stanza 1درین میخانه ای ساقی ندارم محرمی دیگر
درین میخانه ای ساقی ندارم محرمی دیگر
که من شاید نخستین آدمم از عالمی دیگر
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
None other in this tavern is, Saki, to share my mysteries; am I the first (O who can tell) conceived in heaven, on earth to dwell?
دمی این پیکر فرسوده را سازی کف خاکی
فشانی آب و از خاک آتش انگیزی دمی دیگر
کبھی آپ میرے اس پیکر فرسودہ کو کف چاک بنا دیتے ہیں؛ اور کبھی اس خاک پر آپ عشق چھڑک کر اس کے اندر آگ پیدا کر دیتے ہیں۔
A while this spent and weary frame Thou makest dust; and on the same scatterest water; lo I see fire in the ashes presently.
بیار آن دولت بیدار و آن جام جهان بین را
عجم را داده ای هنگامهٔ بزم جمی دیگر
آپ نے عجم کو ایک بار پھر بزم جم کا ہنگامہ عطا کیا ہے؛ اب اس عشق کی دولت بیدار اور جام جہاں بیں بھی عطا فرمائیے۔
Bring me that fortune ever new, the cup where lies the world to view, for, in the palace of the East, another Jamshid sits to feast.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

