رباعی شمارهٔ 230
Toggle stanza 1دی آمدنی به حیرت از منزل خویش
11
دی آمدنی به حیرت از منزل خویش
امروز قراری نه به کار دل خویش
22
فردا شدنی به چیزی از حاصل خویش
پس من چه دهم نشان ز آب و گل خویش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

