رباعی شمارهٔ 230

Toggle stanza 1
دی آمدنی به حیرت از منزل خویش
1

دی آمدنی به حیرت از منزل خویش

امروز قراری نه به کار دل خویش

2

فردا شدنی به چیزی از حاصل خویش

پس من چه دهم نشان ز آب و گل خویش

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…