رباعی شمارهٔ 120
Toggle stanza 1تن در غم تو در آب منزل دارد
11
تن در غم تو در آب منزل دارد
دل آتش سودای تو در دل دارد
22
جان در طلب تو باد حاصل دارد
پس کیست که او نیل ترا گل دارد
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

