رباعی شمارهٔ 121

Toggle stanza 1
هجر تو خوشست اگر چه زارم دارد
1

هجر تو خوشست اگر چه زارم دارد

وصل تو بتر که بی‌قرارم دارد

2

هجر تو عزیز و وصل خوارم دارد

این نیز مزاج روزگارم دارد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…