رباعی شمارهٔ 119

Toggle stanza 1
آب از اثر عارض تو می گردد
1

آب از اثر عارض تو می گردد

آتش زد و رخسار تو پر خوی گردد

2

گر عاشق تو چو خاک لاشی گردد

چون باد به گرد زلف تو کی گردد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…