رباعی شمارهٔ 119
Toggle stanza 1آب از اثر عارض تو می گردد
11
آب از اثر عارض تو می گردد
آتش زد و رخسار تو پر خوی گردد
22
گر عاشق تو چو خاک لاشی گردد
چون باد به گرد زلف تو کی گردد
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

