رباعی شمارهٔ 118
Toggle stanza 1در دیدهٔ خصم نیک روی تو مباد
11
در دیدهٔ خصم نیک روی تو مباد
بر عاشق سفله نیک خوی تو مباد
22
چون قامت من دل دو توی تو مباد
جز من پس ازین عاشق روی تو مباد
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

