رباعی شمارهٔ 118

Toggle stanza 1
در دیدهٔ خصم نیک روی تو مباد
1

در دیدهٔ خصم نیک روی تو مباد

بر عاشق سفله نیک خوی تو مباد

2

چون قامت من دل دو توی تو مباد

جز من پس ازین عاشق روی تو مباد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…