Toggle stanza 1
دیوانه را به دامن صحرا که می برد
1

دیوانه را به دامن صحرا که می برد

طفل یتیم را به تماشا که می برد

2

مکتوب خشک سلسله پای قاصدست

موج سراب را سوی دریا که می برد

3

راه نسیم نیست در آن زلف تابدار

از بیدلان پیام به دلها که می برد

4

جایی که زلف حلقه بیرون در بود

نام دل شکسته ما را که می برد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…