غزل شمارهٔ 5068

Toggle stanza 1
ازگفتگوی عشق گزیدم زبان خویش
1

ازگفتگوی عشق گزیدم زبان خویش

ازشیر ماهتاب بریدم کتان خویش

2

گر بیخبر روم ز جهان جای طعن نیست

یک کس نیافتم که بپرسم نشان خویش

3

نانش همیشه گرم بود همچو آفتاب

هرکس به ذره فیض رساند زخوان خویش

4

چون سرو درمقام رضا ایستاده ام

آسوده خاطرم ز بهار و خزان خویش

5

آن ساقی کریم که عمرش دراز باد

فرصت نمیدهد که بگیرم عنان خویش

6

ساغر به احتیاط ستاند ز دست خضر

درمانده ام به دست دل بدگمان خویش

7

پروای خال چهره یوسف نمی کند

صائب ز نقطه قلم امتحان خویش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…