غزل شمارهٔ 2698

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: لمیشود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: غزل

Toggle stanza 1
گر شکر در جام ریزم زهر قاتل می‌شود
1

گر شکر در جام ریزم زهر قاتل می‌شود

چون صدف گر آب نوشم عقده دل می‌شود

2

چون سکندر می‌خورد آیینهٔ عمرش به سنگ

از خضر یک آب خوردن هرکه غافل می‌شود

3

جامه بر تن کعبه را مجنون ما خواهد درید

کی ز سنگ کودکان دیوانه عاقل می‌شود؟

4

زیر هر برگ گلی صد نیش خار آماده است

با تن آسانی مکن عادت که مشکل می‌شود

5

قطره اشکم اگر از دل چنین چیند غبار

تا سر مژگان رسیدن مهره گل می‌شود

6

جان نخواهد برد صائب آفتاب از آه ما

وای بر شمعی که با صرصر مقابل می‌شود

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…