غزل شمارهٔ 2701

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: لمیشود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: غزل

Toggle stanza 1
دل خراب از خندهٔ پنهان آن گل می‌شود
1

دل خراب از خندهٔ پنهان آن گل می‌شود

سنگ این مینای خالی پرتو مل می‌شود

2

ساحل دریای آشوب است ترک اختیار

موج بر خاشاک از افتادگی پل می‌شود

3

در طریق ما که نعل واژگون خضر ره است

بیشتر خون بر سر تیغ تغافل می‌شود

4

سیل را کوتاهی دیوار عاجز می‌کند

سد راه دشمن غالب تحمل می‌شود

5

پاک گردد هر که صائب دامن پاکان گرفت

اشک شبنم سرخ‌رو از دامن گل می‌شود

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…