غزل شمارهٔ 1992

Toggle stanza 1
خون در دلم ز غیرت آن گوشواره است
1

خون در دلم ز غیرت آن گوشواره است

عالم سیاه در نظرم زان ستاره است

2

چون کودک یتیم درین تیره خاکدان

پهلوی خشک خویش مرا گاهواره است

3

بر من چنین که سخت گرفته است روزگار

آزاده آن شرار که در سنگ خاره است

4

تیغ دو دم ندیده چه بیداد می کند

آن ساده دل که طالب عمر دوباره است

5

صائب کسی که عاقبت اندیش اوفتاد

هر چند در ره است به منزل سواره است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…