Toggle stanza 1
امروز قدر نکته موزون نمانده است
1

امروز قدر نکته موزون نمانده است

انصاف در قلمرو گردون نمانده است

2

هیچ است صد رساله حکمت به چشم ما

بهتر ز خم اثر ز فلاطون نمانده است

3

یک عمر می توان سخن از زلف یار گفت

در بند آن مباش که مضمون نمانده است

4

صائب پیاله گیر که تا کرده ای نگاه

یک خشت از عمارت گردون نمانده است

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…