غزل شمارهٔ 3790
Toggle stanza 1دم مسیح دل دردمند ما نخورد
11
دم مسیح دل دردمند ما نخورد
اگر هلاک شود بازی دوا نخورد
22
تو ای که از دم عیسی فسانه پردازی
بهوش باش که بیمار ما هوا نخورد
33
بهشت در قدم مرد عاقبت بین است
کسی که رو به قفا می رود قفا نخورد
44
به لاله طعنه مستی چه می زنی صائب؟
میسرست قدح خوردنش، چرا نخورد؟
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

