Toggle stanza 1
دم مسیح دل دردمند ما نخورد
1

دم مسیح دل دردمند ما نخورد

اگر هلاک شود بازی دوا نخورد

2

تو ای که از دم عیسی فسانه پردازی

بهوش باش که بیمار ما هوا نخورد

3

بهشت در قدم مرد عاقبت بین است

کسی که رو به قفا می رود قفا نخورد

4

به لاله طعنه مستی چه می زنی صائب؟

میسرست قدح خوردنش، چرا نخورد؟

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…