Toggle stanza 1
ندامت بود بار مطلوب خشک
1

ندامت بود بار مطلوب خشک

مپیوند زنهار با چوب خشک

2

به نخل ثمردار پیوند کن

مده دل چو قمری به محبوب خشک

3

مزن با خط سبز چین بر جبین

که سوهان روح است مکتوب خشک

4

مگر بوی یوسف به کنعان گذشت؟

که چون سرو شد تازه یعقوب خشک

5

به اهل خرابات مفروش زهد

که آتش فتد زود در چوب خشک

6

بود زاهد ژاژخا را کلام

چو گردی که خیزد ز جاروب خشک

7

ز آیینه سیراب نتوان شدن

گذشتیم صائب ز مطلوب خشک

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…