Toggle stanza 1
مابه خون جگریم از می گلگون قانع
1

مابه خون جگریم از می گلگون قانع

با خماریم ز لعل لب میگون قانع

2

هرگز از می نشود جام نگونش خالی

هرکه چون لاله شود بادل پر خون قانع

3

می شود ساغرش ازباده حکمت لبریز

شد به خم هرکه ز مسکن چو فلاطون قانع

4

فارغ از دردسر جاه شود ، هرکس شد

به کلاه نمدازتاج فریدون قانع

5

خفظ اندازه محال است توان در می کرد

چون به صد بوسه شوم زان لب میگون قانع؟

6

از نظربازی آن لیلی عالم صائب

به تماشای غزالیم چو مجنون قانع

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…