غزل شمارهٔ 4998
Toggle stanza 1به نوحه خانه ایام شاد و خرم باش
11
به نوحه خانه ایام شاد و خرم باش
بگیر ساغر گلرنگ، گو محرم باش
22
مشو چو سبزه زمین گیر از گرانجانی
درین بساط سبکروح تر ز شبنم باش
33
مکن نمک بحرامی به سوده الماس
چو داغ پنبه به گوش از حدیث مرهم باش
44
چو آفتاب سرت تا زآسمان گذرد
چوابر، فیض رسان تمام عالم باش
55
ز شرم توست که آزار می کشی صائب
تو نیز بردر عرفان زن و مکرم باش
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

