Toggle stanza 1
به نوحه خانه ایام شاد و خرم باش
1

به نوحه خانه ایام شاد و خرم باش

بگیر ساغر گلرنگ، گو محرم باش

2

مشو چو سبزه زمین گیر از گرانجانی

درین بساط سبکروح تر ز شبنم باش

3

مکن نمک بحرامی به سوده الماس

چو داغ پنبه به گوش از حدیث مرهم باش

4

چو آفتاب سرت تا زآسمان گذرد

چوابر، فیض رسان تمام عالم باش

5

ز شرم توست که آزار می کشی صائب

تو نیز بردر عرفان زن و مکرم باش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…