Toggle stanza 1
همچون کمان سخت ز طبع غیور خویش
1

همچون کمان سخت ز طبع غیور خویش

آسوده از کشاکش خلقم ز زور خویش

2

از آفتاب اگر به سرم تاج زر نهند

سر درنیاورم به فلک ازغرور خویش

3

چون کرم شبچراغ،زراندودآتشم

مستغنی ازستاره و ماهم زنورخویش

4

حیرات مرا به عالم وحدت کشیده است

نتوان زمن گرفت به کثرت حضور خویش

5

سیلاب با تلاطم دریا چه می کند؟

پروای شور حشر ندارم ز شور خویش

6

نه تاب وصل دارد و نه طاقت فراق

درمانده ام به دست دل ناصبور خویش

7

صائب مرا به عالم بالا دلیل شد

در زیر بار منتم از فکر دور خویش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…