غزل شمارهٔ 2203

Toggle stanza 1
چرخ در تاب از تحمل ماست
1

چرخ در تاب از تحمل ماست

تیغ در آتش از تغافل ماست

2

سر شبنم به آفتاب رسید

در ترقی همین تنزل ماست

3

می رسیم از شکستگی به کنار

همچو موج از شکستگی پل ماست

4

شکوه تا چند از کشاکش دام؟

این کشاکش نسیم سنبل ماست

5

حلقه چشم دام در نظرست

بیضه ماتم سرای بلبل ماست

6

صائب از فکر ماست رنگین شعر

این چمن سرخ رو ز بلبل ماست

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…