Toggle stanza 1
بیخبر شو ز جهان گر خبری می گیری
1

بیخبر شو ز جهان گر خبری می گیری

چون گل از پوست برآ گر ثمری می گیری

2

می شود خواب گران شهپر پرواز ترا

اگر از صدق طلب راهبری می گیری

3

چون به سر منزل مقصود رسی، کز غفلت

خبر خانه خود از دگری می گیری

4

از حیاتم نفس پا به رکابی مانده است

از من ای آینه رو گر خبری می گیری

5

در دل خویش گره ساز نفس را صائب

اگر از سینه دریا گهری می گیری

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…