غزل شمارهٔ 2165

Toggle stanza 1
از عشق دلی نیست که زخمی نچشیده است
1

از عشق دلی نیست که زخمی نچشیده است

این سیل سبکسیر به هر کوچه دویده است

2

ای غنچه خندان به حیا باش که شبنم

آواز شکر خنده گل را نشنیده است

3

در بردن دل اینهمه تعجیل چه لازم؟

این طور زلیخا پی یوسف ندویده است

4

در صاف خموشی نبود درد ندامت

دندان تأسف لب ساغر نگزیده است

5

صائب نفس مشک فشان تو مکرر

از مغز غزالان ختن عطسه کشیده است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…