غزل شمارهٔ 2164

Toggle stanza 1
رخسار تو روز سیه ریش ندیده است
1

رخسار تو روز سیه ریش ندیده است

زلف سیهت مفلسی دل نکشیده است

2

بر برگ گلت گرد کسادی ننشسته است

دنبال خریدار، نگاهت ندویده است

3

ابروی تو پیوسته به خوبی گذرانده است

چشم تو خمار می گلگون نکشیده است

4

تلخی ندامت نچشیده است دهانت

دندان تأسف لب لعلت نگزیده است

5

معذوری اگر قدر گرفتاری ندانی

پروانه ای از پای چراغت نپریده است

6

حق بر طرف توست در آزردن صائب

سر رشته پیمان تو هرگز نبریده است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…