Toggle stanza 1
کرد بیهوش مرا نعره مستانه خویش
1

کرد بیهوش مرا نعره مستانه خویش

خواب من گشت گرانسنگ ز افسانه خویش

2

بحر و کان را کف افسوس کند بی برگی

گر به بازار برم گوهر یکدانه خویش

3

از شبیخون نسیم سحر ایمن می بود

شمع می کرد اگر رحم به پروانه خویش

4

وقت آن خوش که درین دایره همچون پرگار

ازسویدای دل خویش کند دانه خویش

5

عمر چون باد به تعجیل ازان می گذرد

که تو غافل کنی از کاه جدا دانه خویش

6

باعث غفلت من شد سخن من صائب

خواب من گشت گرانسنگ ز افسانه خویش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…