رباعی شمارهٔ 665
Toggle stanza 1در سلسلهات هر آنکه پا بست شود
11
در سلسلهات هر آنکه پا بست شود
گر فانی و گر نیست بود هست شود
22
میفرمائی که بیخود و مست مشو
ناچار هر آنکه میخورد مست شود
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

