رباعی شمارهٔ 54

شاعر: غالب دهلوی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستشود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
هر چند خرد ز تاب می پست شود
1

هر چند خرد ز تاب می پست شود

وز ضعف خرد وهم قویدست شود

2

هر کس که خرد دارد ازین جوهر ناب

آن مایه چرا خورد که بدمست شود؟

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…