رباعی شمارهٔ 54
شاعر: غالب دهلوی
Toggle stanza 1هر چند خرد ز تاب می پست شود
11
هر چند خرد ز تاب می پست شود
وز ضعف خرد وهم قویدست شود
22
هر کس که خرد دارد ازین جوهر ناب
آن مایه چرا خورد که بدمست شود؟
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

