رباعی شمارهٔ 394
Toggle stanza 1گفتی گشتم ملول و سودام گرفت
11
گفتی گشتم ملول و سودام گرفت
تا شد دل از این کار و از این جام گرفت
22
ترسم بروی جامه دران بازآئی
کان گرگ درنده باز تنهام گرفت
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

