رباعی شمارهٔ 1901
Toggle stanza 1عاشق شوی ای دل و ز جان اندیشی
11
عاشق شوی ای دل و ز جان اندیشی
دزدی کنی و ز پاسبان اندیشی
22
دعوی محبت کنی ای بیمعنی
وانگه ز زبان این و آن اندیشی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

