رباعی شمارهٔ 1901

Toggle stanza 1
عاشق شوی ای دل و ز جان اندیشی
1

عاشق شوی ای دل و ز جان اندیشی

دزدی کنی و ز پاسبان اندیشی

2

دعوی محبت کنی ای بی‌معنی

وانگه ز زبان این و آن اندیشی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…