رباعی شمارهٔ 522

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یزد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
از عشق تو دریا همه شور انگیزد
1

از عشق تو دریا همه شور انگیزد

در پای تو ابرها درر میریزد

2

از عشق تو برقی بزمین افتادست

این دود به آسمان از آن میخیزد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…